دیباچہ
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
یا مسلمانوں کے لئے یہ رونا نہیں۔ کسی بھی پیغمبر سے اس طرح کا رونا ملک کے لئے ثابت نہیں۔ (محمد اکرم الزهری، سلاله، سلطنت عمان) جواب مذکورہ حدیث کا حوالہ یہاں غیر متعلق ہے۔ یہ حدیث تفصیل کے ساتھ صحیح ابن حبان (جلد اول) میں آئی ہے۔ صحیح مسلم (کتاب المساجد) میں اس کے پورے الفاظ یہ ہیں : احب البلاد الی الله مساجدها وابغض البلا دالی الله اسو اقها (اللہ کے نزدیک شہروں میں سب سے محبوب جگہ اس کی مسجدیں ہیں اور اللہ کے نزدیک شہروں میں سب سے مبغوض جگہ اس کے بازار ہیں )۔ اس حدیث میں جو تقابل ہے وہ مساجد اور اسواق کے درمیان ہے ۔ امام نووی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ : المساجد محل نزول الرحمة والا سواق ضد ها (صحیح مسلم بشرح النووی ۱/ ۷۱۵) یعنی مسجدیں اللہ کی رحمت کے نزول کا مقام ہیں اور بازار اس کا ضد ہیں ۔ عجیب بات ہے کہ لوگوں نے اس حدیث سے بلاد کے مبغوض ہونے کا مسئلہ نکال لیا۔ حالاں کہ اس حدیث میں جس چیز کے مبغوض ہونے کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے، وہ اسواق ہیں، یعنی شاپنگ اور مارکیٹنگ کا تباہ کن شوق جس میں آج دنیا بھر کے مسلمان مرد اور مسلمان عورت بری طرح مبتلا ہیں ۔ دوسری بات یہ کہ میری مذکورہ گفتگو کا تعلق عمومی معنوں میں مساجد کے بارے میں نہیں تھا بلکہ وہ خصوصی طور پر صرف ایک مسجد کے بارے میں تھا جو لمبے عرصے سے ہندوستان کے دو بڑے فرقوں کے درمیان نزاعی بنی ہوئی تھی ۔ کچھ خود ساختہ لیڈروں نے اس مسجد کے سوال پر انتہائی غیر حکیمانہ رویہ اختیار کر کے دونوں فرقوں کے درمیان نفرت اور تشدد کو بھڑکادیا۔ جس کا سب سے زیادہ برا خمیازہ فطری طور پر خود مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔ نیز اس کے نتیجہ میں جو باہمی تلخی پیدا ہوئی اس نے ملک میں دعوت کے ماحول کو بگاڑ دیا۔ میں نے چاہا کہ اس کشیدگی کو ختم کر کے دوبارہ یہاں امن کی فضا اور دعوت کا ماحول قائم کروں ۔ آپ نے لکھا ہے کہ کوئی پیغمبر ملک کے لئے نہیں رویا۔ جب میں وزیر اعظم سے کہا کہ ملک کو بچائیے تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہاں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader