Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

زمین اور پہاڑ کو بچائیے ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ملکی سماج کو تشدد سے بچائیے اور یہاں امن قائم کیجئے ۔ اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اگر اس ملک میں امن قائم ہو تو اس کا فائدہ کس کو ملے گا ۔ چھری کو یا خربوزہ کو ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں میرا مسلک عین وہی تھا جو تمام دنیا کے علماء نے اس طرح کے حالات میں عملاً اختیار کر رکھا ہے ۔ ہندوستان میں ۱۹۴۷ کی تقسیم کے وقت سیکڑوں مسجدوں کا وہی انجام ہوا جو ۱۹۹۲ میں بابری مسجد کا ہوا۔ مگر ہندوستانی علماء نے مساجد کو آشونہیں بنایا بلکہ ملک و قوم کے تحفظ کو آشوبنایا ۔ پاکستان (لاہور) میں برٹش حکومت کے دور میں مسجد شہید گنج کو ڈھانے کا واقعہ پیش آیا اور سکھوں نے اس کو گوردوارہ کی حیثیت دے دی۔ آج بھی اس مقام پر ”گوردوارہ سنگھیاں‘‘ کا بورڈ لگا ہوا ہے ۔ ۱۹۴۷ میں پاکستان بن گیا اور یہاں کا اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں آگیا مگر اس کے بعد تمام پاکستانی علماء اپنے اپنے انداز میں ملک کی تعمیر میں لگ گئے ۔ کسی نے اس مسجد کا اشو نہیں اٹھایا ۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں تقریباً تمام عرب ملکوں میں سیکڑوں کی تعداد میں مسجدیں ڈھائی گئی ہیں اور یہ سب شہری ترقی کے مقصد کے تحت ہوا ۔ اب تمام دنیا کے علماء اور ان کے متعلقین انھیں عرب ممالک میں جارہے ہیں تا کہ ان شہروں کی ترقی میں اپنا حصہ لے سکیں ۔ انھوں نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ پہلے تمام ڈھائی ہوئی مسجدوں کو ان کی سابق جگہ پر دوبارہ تعمیر کرو ، اس کے بعد ہم تمھارے ملکوں میں آئیں گے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بابری مسجد (اجودھیا) کے معاملہ میں جو مسلک میں نے اختیار کیا وہ عین وہی تھا جو عقل اور شریعت کا تقاضا ہے۔ بابری مسجد کے سلسلہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ وہ عام مسجدوں کی طرح ایک مسجد نہیں ۔ آغاز ہی سے وہ ایک نزاعی مسجد کی حیثیت رکھتی تھی اور کسی بھی نزاعی معاملہ میں عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ اس کو حکمت اور تدبر کے ذریعہ حل کیا جائے نہ کہ غوغا آرائی کے ذریعہ ۔ بابری مسجد کی مخصوص حیثیت کو بتانے کے لئے یہاں میں صرف ایک حوالہ نقل کرتا ہوں ، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے والد (مولانا حکیم سید عبد الحي صاحب) کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے’’ ہندوستان اسلامی عہد میں‘‘۔ وہ ۱۹۲۷ میں (عربی میں) حیدر آباد سے اور ۱۹۷۳ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page