دیباچہ
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
(اردو میں) لکھنؤ سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کے ساتھ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا مبسوط مقدمہ شامل ہے۔ اس میں انہوں نے اس کتاب کے بارے میں یہ الفاظ درج کئے ہیں: ”ہم اہل ملک کے سامنے یہ قیمتی تحفہ اور تاریخی دستاویز پیش کرتے ہوئے مسرت کر رہے ہیں“۔ (صفحہ ۲۴) اس کتاب کے ایک باب کا عنوان ہے ”ہندوستان کی مسجدیں“۔ اس باب میں ”بابری مسجد اجودھیا“ کے ذیلی عنوان کے تحت یہ سطریں درج ہیں: ”یہ مسجد باہر نے اجودھیا میں تعمیر کی تھی، جسے ہندو رام چندر جی کی جائے ولادت کہتے ہیں، ان کی بیوی سیتا کا ایک واقعہ مشہور ہے، کہا جاتا ہے کہ سیتا کا یہاں ایک مندر تھا، جہاں وہ رہتیں اور اپنے شوہر کے لئے کھانا پکاتی تھیں، اسی جگہ باہر نے ۱۹۲۳ میں یہ مسجد تعمیر کی“۔ (صفحہ ۱۴۱) حقیقت یہ ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک انتہائی نازک مسئلہ تھا۔ لازم تھا کہ اس معاملہ میں خاموش تد بیر کا انداز اختیار کیا جائے۔ ۱۹۷۳ کے بعد ابتدائی دور میں ملک کے بڑے علماء نے ایسا ہی کیا۔ بعد کے زمانے میں بدقسمتی سے یہ مسئلہ کچھ غوغا پسند مسلمانوں کے ہاتھ میں آگیا۔ ان کی نا عاقبت اندیشانہ ہنگامہ آرائیوں نے اس مسئلہ کو خطرناک حد تک بگاڑ دیا۔ بعد کے دور کی غوغلائی سیاست کے نتیجہ میں نہ صرف بابری مسجد زد میں آگئی بلکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور کشیدگی پھیل گئی جس نے دعوت کے ماحول کو انتہائی حد تک بگاڑ دیا۔ میری کوشش ہر مرحلہ میں یہ رہی ہے کہ بابری مسجد بھی بچی رہے، مسلمان بھی محفوظ رہیں اور دعوت کا ماحول بھی بگڑنے نہ پائے۔ اس پورے پس منظر میں دیکھئے تو آپ کو اس معاملہ میں کوئی اشکال باقی نہ رہے گا۔ آپ کا یہ ارشاد بڑا عجیب ہے کہ میرا رواں مسلمانوں کے لئے نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ الرسالة کا ہر شمارہ اس غلط فہمی کی تردید کے لئے کافی ہے۔ دیگر مسلم مسائل میں عمومی طور پر اور بابری مسجد کے مسئلہ میں خصوصی طور پر اللہ کی توفیق سے میرا وہ مثبت رول رہا ہے جس کا ذکر سورۃ المائدہ آیت ۶۴ میں کیا گیا ہے۔ بابری مسجد کے مسئلہ کو خود ساختہ مسلم رہنماؤں نے جس نا عاقبت اندیشانہ طریقہ پر اٹھایا اس کے نتیجہ میں ملک میں زبر دست فساد پھوٹ پڑا۔ اس وقت میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر فسادات کی آگ بجھانے کے لئے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader