Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کود پڑا۔ اس معاملہ میں اللہ کی توفیق سے میں نے جو کام کیا اس کا کچھ تذکرہ الرسالہ کے شماروں میں آتار ہا ہے۔ یہاں میں صرف ایک حوالہ نقل کروں گا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد جب ملک میں فسادات کی آگ بھڑک اٹھی تو میں نے کچھ ممتاز ہندو شخصیات کو ساتھ لے کر ایک شانتی یاترا نکالی اور ۳۵ مقامات پر گیا۔ تقریباً تین ہفتہ کی یہ شانتی یاترا ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات میں تفصیل سے کور کی گئی۔ اللہ کے فضل سے اس شانتی یاترا کا غیر معمولی اثر ہوا اور اسکے بعد فسادات کی آگ بجھ گئی۔ یہ سفر کن ہنگامی حالات میں ہوا تھا اس کا اندازہ شانتی یاترا‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی رپورٹ (الرسالہ اکتوبر ۱۹۹۳) سے ہوسکتا ہے۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ شہروں میں کرفیو نافذ تھے اور جگہ جگہ سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ اس وقت میرا کیا حال تھا اس کا اندازہ اس سے ہوگا کہ ایک مقام پر جب میں آگ اور دھوئیں کے ماحول میں تقریر کرنے کھڑا ہوا تو میں بے اختیار رورہا تھا۔ میں نے اپنی تقریر ان الفاظ سے شروع کی۔ ہم یہاں اس لئے آئے ہیں کہ جس آگ کو فائر بریگیڈ کا پانی نہ بجھا سکا اسے ہم اپنے آنسوؤں سے بجھا دیں۔ (اسفار ہند صفحه ۹۶) سوال دو سوالات کے جوابات آپ سے مطلوب ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ مولانا روم ڈارون سے پہلے اصول ارتقاء پیش کر چکے ہیں۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ درج ذیل شعر میں نے کہیں پڑھا تھا، شعر یوں ہے: کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی وہ بھی اس کا خالق کون ہے؟، اگر بتا سکیں تو مہربانی ہوگی۔ (احساس آفاتی، ونو با بھاوے نگر، کرلا۔ (400070 جواب یہ صحیح ہے کہ مولانا جلال الدین رومی (وفات ۱۲۷۳ء) کے یہاں حیاتیاتی ارتقاء کا ابتدائی تصور پایا جاتا ہے۔ مثلاً ان کا یہ شعر: از نباتی و حیاتی اوفتاد۔ اسی طرح ابن مسکویہ (وفات ۱۰۳۰) نے بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page