Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مگر یہ ان حضرات کی ذاتی ایجاد نہیں۔ اصل یہ ہے کہ پانچ ہزار سال پہلے یونان کے بعض فلسفیوں نے حیاتیاتی ارتقا کا تصور اپنی ابتدائی صورت میں پیش کیا تھا۔ جب یونانی کتابوں کے عربی ترجمے ہوئے تو یہ نظریہ مسلمانوں تک پہنچا اسی یونانی تصور کو مولانا روم اور ابن مسکویہ وغیرہ نے دہرایا ہے۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے بعد یورپی علماء کے نام لئے جاتے ہیں۔ مثلاً لامارک (وفات ۱۸۲۹ء) وغیرہ۔ چارلس ڈارون (وفات ۱۸۸۲ء) کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے حیاتیاتی ارتقا کے قدیم نظریہ کو پہلی بار مرتب علمی انداز میں پیش کیا۔ اس موضوع پر اس کی کتاب انواع حیات (The Origin of Species) ۱۸۵۹ء میں شائع ہوئی ۔ تاہم حیاتیاتی ارتقاء یا عضویاتی ارتقا کا نظریہ قدیم اور جدید دونوں صورتوں میں غیر ثابت شدہ ہے۔ یہ آج بھی صرف ایک قیاسی نظریہ ہے کہ کوئی ثابت شدہ واقعہ۔ مثلاً مختلف ملتی جلتی انواع حیات کو ایک ترتیب میں کھڑا کر کے یہ کہا جاتا ہے کہ ایک سے دوسرا نکلا، دوسرے سے تیسرا نکلا، تیسرے سے چوتھا نکلا، وغیرہ۔ مگر صرف یہ ایک دعویٰ ہے۔ ان مماثل مظاہر حیات کی دوسری زیادہ قریب تر توجیہہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان ان میں سے ہر ایک کو مستقل اور منفرد نوع حیات مانا جائے ۔ آپ نے جو شعر نقل فرمایا ہے اس کے شاعر کا نام تو مجھے معلوم نہیں ۔ البتہ وہ مجھ کو پسند آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اقبال کے اس مشہور شعر کے مقابلہ میں وہ بہت زیادہ درست اور معنی ہے : ستیزه کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغ مصطفوی سے شرار بو لهبی اقبال کا مذکورہ شعر میرے نزدیک صرف ایک شاعرانہ تخیل ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کے مقابلہ میں آپ کا نقل کردہ مذکورہ شعر موجودہ صورت حال کی نہایت صحیح ترجمانی ہے ۔ موجودہ زمانے میں مختلف مقامات پر نظام مصطفے اور نظام اسلام کے نام پر جو نام نہاد متشددانہ جہاد جاری ہے وہ بلاشبہہ اس شعر کا مصداق ہے۔ یہ اسلام کے نام پر ایک ایسا اسلامی فعل ہے جس کی کوئی دوسری مثال چودہ سوسال کی اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس موضوع پر الرسالہ میں بار بار لکھا جا چکا ہے ۔ یہاں مزید تفصیل کی ضرورت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page