Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

اضافی قدر یا ریلیٹیو ویلو کیا ہے، انگریزی ڈکشنری میں اس کی تشریح اس طرح کی گئی ہے: کسی اور چیز کی نسبت سے اہمیت و معنویت ہونا: Having significance in relation to something else اس حکمت یا دانائی کی ایک تاریخی مثال حدیبیہ کا معاملہ ہے۔ اس موقع پر پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس کا ایک پہلو وہ تھا جو بظاہر سب کو دکھائی دیتا تھا۔ یعنی پیغمبر اسلام کا مخالفین کی شرائط کو یک طرفہ طور پر مان لینا۔ بظاہر یہ طریقہ اتنا نازیبا تھا کہ حضرت عمر نے اس کو ذنیۃ قرار دیا۔ یعنی ذلت کو اختیار کرنا۔ (البدایہ والنہایہ ۷/ ۱۶۸)۔ مگر اس کے ساتھ اس معاملہ کا ایک اور پہلو تھا جو بظاہر معاہدہ کے وقت دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ یہ کہ کسی بھی طرح اگر ایسا ہو کہ باہمی ٹکراؤ ختم ہو جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان معتدل فضا میں انٹریکشن ہونے لگے تو لوگوں کے اندر تیزی سے اسلام پھیلنا شروع ہو جائے گا ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے گا جب کہ دشمن لوگ اسلام کے قریبی مددگار بن جائیں (حم السجدہ ۳۴) جیسا کہ بعد کو عملاً پیش آیا۔ گویا حدیبیہ کے معاہدہ کا ایک پہلو وہ تھا جس کو ہر صاحب بصارت دیکھ رہا تھا۔ لیکن اس کا ایک اور اہم تر پہلو وہ تھا جس کو صاحب بصیرت ہی دیکھ سکتا تھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : فعلم ما لم تعلموا (الفتح (۲۷) یعنی اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہیں جانی۔ اضافی قدر یا ریلیٹیو ویلو کو جاننے کی اہمیت یہ ہے کہ اکثر حالات میں یہی پہلو عملی اعتبار سے فیصلہ کن بن جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم مفکرین کی سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ وہ اس حکیمانہ بصیرت سے خالی تھے۔ وہ سامنے کی چیزوں کو دیکھ کر اقدامات کرتے رہے۔ وہ ان دوسرے پہلوؤں کو دیکھنے سے قاصر رہے جو آخر کار فیصلہ بننے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام اقدامات نہ صرف بے نتیجہ رہے بلکہ وہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے (counter productive) ثابت ہوئے۔ مثال کے طور پر مصر اور پاکستان اور ایران میں اسلام پسندوں کا یہ سمجھ لینا کہ ان کی معاصر حکومت تمام خرابیوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page