Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

کی جڑ (source of all evils) ہے۔ اگر وہ کسی طرح موجودہ حکمران کو اقتدار سے ہٹا دیں تو وہاں شاندار طور پر اسلامی نظام قائم ہو جائے گا۔ اسی طرح برصغیر ہند میں مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھ لیا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جغرافیائی تقسیم مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل ہے۔ ان تمام رہنماؤں کی مشترک کوتاہی یہ تھی کہ وہ صرف سامنے کی باتوں کو دیکھ سکے، وہ ان اضافی اسباب (relative factors) کو دیکھنے سے عاجز رہے جو آخر کار فیصلہ کن بن کر تمام خوش فہمیوں کو تہمہ و بالا کر دینے والے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان تمام رہنماؤں کی ہنگامہ خیز تحریکیں مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کے سوا کوئی اور نتیجہ پیدا نہ کر سکیں۔ اسی حقیقت کو حضرت عمر فاروق نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ عقل مند وہ نہیں ہے جو شر کے مقابلہ میں خیر کو جانے۔ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کم تر شر کون سا ہے۔ (لیس العاقل الذی یعرف الخير من الشر و لكنه الذي يعرف خير الشرين) سوال الرساله مئی 1999 पढ़ा۔ اس میں ایک مضمون ’’جنتی کون‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میں آپ لکھتے ہیں کہ: جنتی انسان وہ ہے جس نے دنیا ہی میں آخرت کا تجربہ کیا۔ جس نے آخرت میں خدا کو براہ راست دیکھنے سے پہلے اسی دنیا میں اس کو بالواسطہ طور پر دیکھا۔ (صفحہ ۴۷) اس جملہ کی وضاحت مطلوب ہے۔ دنیا میں خدا کو بالواسطہ طور پر دیکھنے سے کیا مراد ہے؟۔ (عبد السلام، جامعہ دار السلام، عمر آباد) جواب ’’خدا کو بالواسطہ دیکھنا‘‘ سے مراد وہی چیز ہے جس کو حدیث میں تعبد اللہ کا نک ترا ہ (البخاری) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کیا کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ میں نے صرف اس کو قابل فہم بنانے کے لئے نئے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ایک ہے خدا کی ذات کو دیکھنا۔ دوسرا ہے خدا کی آیت اور آلاء کے ذریعہ خدا کو پہچاننا۔ پہلے معنی میں صرف آخرت میں کسی کو خدا کا مشاہدہ حاصل ہوگا۔ دوسرے معنی میں یہ تجربہ اسی دنیا میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page