دیباچہ
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
گزرتا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں، دنیا میں آدمی گویا کہ خدا کو دیکھتا ہے اور آخرت میں وہ خدا کو حقیقی طور پر دیکھے گا۔ پہلا دیکھنا بالواسطہ طور پر دیکھنا ہے، اور دوسرا دیکھنا براہ راست طور پر دیکھنا۔ سوال قرآن نے سوچنے اور سمجھنے کی نسبت قلب کی طرف کی ہے اور حالیہ سائنس کی تحقیقات یہ ہیں کہ یہ دونوں صلاحیتیں دماغ کی ہیں۔ دل (قلب) کی حیثیت ایک پمپ سے زیادہ نہیں۔ تو اس میں تطبیق کی صورت کیا ہوگی؟ (ابرار احمد رفعت، سورت) جواب قرآن میں قلب کا لفظ حیاتیاتی اصطلاح کے طور پر نہیں آیا بلکہ اپنے ادبی استعمال کے طور پر آیا ہے اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں میں آج بھی قلب کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے جس معنی میں وہ قرآن میں استعمال کیا گیا ہے معروف اصول کے مطابق، قرآن کی ان آیتوں میں قلب کے لفظ کو اس کے ادبی مفہوم کے اعتبار سے لینا چاہئے نہ کہ اس کے حیاتیاتی مفہوم کے اعتبار سے۔ قلب کے لئے انگریزی میں ہارٹ (Heart) کا لفظ ہے۔ حیاتیاتی کتا ب میں اس لفظ کی تشریح گردش خون کے مرکز کی حیثیت سے ملے گی۔ لیکن آپ انگریزی کی کوئی ڈکشنری دیکھیں تو اس میں درجنوں ایسے استعمال ملیں گے جن میں ہارٹ کو مرکز جذبات کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً With all one's heart یعنی بہت خوشی سے۔ شیکسپیر کی ایک لائن اس طرح ہے A good heart is worth gold اس معاملہ کا تعلق صرف قلب سے نہیں ہے بلکہ دوسرے سیکڑوں الفاظ سے بھی ہے۔ مثلاً سن لائٹ اور مون لائٹ، وغیرہ۔ سوال تقدیر کیا ہے؟ انسان کا معاملہ تقدیر کے تحت ہے یا تدبیر کے تحت۔ اگر تقدیر کے تحت ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انسان مجبور ہے۔ پھر انسان کا امتحان کیوں؟ اور اگر تدبیر کے تحت ہے تو سمجھ میں نہیں آتا، کیوں کہ بہت سے معاملات میں انسان اپنے آپ کو بے بس پاتا ہے۔ (محمد اسحاق ۔ عمر آباد)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader