Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب یہ معاملہ پیچیدہ اس لئے نظر آتا ہے کہ لوگ اس معاملہ میں ثنائی طرز فکر (Dichotomous thinking) کا شکار ہیں۔ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ یا تو سارا معاملہ تقدیر پر مبنی ہے یا سارا معاملہ تدبیر پر۔ حالانکہ یہ معاملہ فٹٹی فٹٹی کا ہے۔ یعنی جزئی طور پر تقدیر ی اور جزئی طور پر تدبیری۔ ایسا اس لئے ہے کہ انسان موجودہ دنیا آزمائش کے لئے رکھا گیا ہے اور آزمائش کی مصلحت چاہتی ہے کہ ایسا ہی ہو۔ آدمی جب اپنے آپ کو مجبور محسوس کرے تو وہ عاجزانہ طور پر خدا کو پکارے اور جب وہ اپنے آپ کو آزاد پائے تو وہ خدا کی اس نعمت پر اس کا شکر ادا کرے۔ قرآن میں خدا کے مطلوب بندوں کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : يدعون ربهم خوفاً وطمعاً (السجدہ ۔۱۶)۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ : الا يمان بين الرجاء والخوف ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے کہ بندے کے اوپر اپنے رب کی نسبت سے دو مختلف قسم کی کیفیات طاری ہوں۔ کبھی خوف کی کیفیت اور کبھی امید کی کیفیت۔ یہ دوطرفہ کیفیات کسی بندہ کے اوپر صرف اسی وقت طاری ہو سکتی ہیں جب کہ وہ اس دنیا میں خوف کی حالت کا تجربہ کرے اور کبھی امید کی حالت کا۔ چونکہ حالات کے بغیر کیفیات پیدا نہیں ہو سکتیں اس لئے انسان کو بیک وقت جبر اور اختیار کے دو طرفہ نظام کے تحت اس دنیا میں رکھا گیا۔ جہاں پر بیک لگانا ہو وہاں گاڑی کو تیز کرنا منزل کی طرف سفر کرنے کے بجائے قبرستان کی طرف اپنی گاڑی کو دوڑانا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page