Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال مجھے قرآن کے مطالعہ سے دلچسپی ہے۔ اس سلسلہ میں میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ قرآن فہمی کا اصول کیا ہے؟ (ایک قاری، الرسالہ) جواب قرآن کے مطالعہ کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے اس کا علمی اور فنی مطالعہ اور دوسرا ہے قرآن کا تذکیری مطالعہ۔ اگر آپ قرآن کا علمی اور فنی مطالعہ کرنا چاہتے ہوں تو آپ کو بہت سے علوم میں گہری واقفیت پیدا کرنی ہوگی جن کی تعداد اہل تفسیر نے کئی درجبت بتائی ہے۔ مگر اس قسم کا مطالعہ مخصوص علماء کا کام ہے۔ وہ عام انسان کی ضرورت نہیں۔ عام انسان جو قرآن کو سادہ طور پر سمجھنا چاہتا ہو اور اس کو پڑھ کر اپنی فکری اور علمی اصلاح کرنا چاہتا ہو، ایسے انسان کے لئے درجنوں علوم میں مہارت پیدا کرنا ضروری نہیں۔ ایسے آدمی کے لئے دو چیزیں کافی ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عربی زبان سے واقفیت ہو اور صالح نیت کے ساتھ قرآن کو پڑھے۔ تاہم اسی کے ساتھ اس کو مستند تفسیروں کا مطالعہ بھی ضرور کرنا چاہیئے ۔ خاص طور سے عربی تفسیروں کا۔ ورنہ دوسری زبانوں میں لکھی ہوئی تفسیروں کا مطالعہ بھی اس کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے ذہنی سانچہ کے مطابق آیتوں کا مفہوم متعین نہ کرے بلکہ خود قرآن نیز حدیث کی روشنی میں اس کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ قرآن کا درست مطالعہ آدمی کو ہدایت تک پہنچاتا ہے اور اس کا نادرست مطالعہ برعکس نتیجہ کا سبب بنتا ہے۔ ہر انسان قدرت کا ایک چھپا ہوا خزانہ ہے۔ یہ صرف مشکلات کی ٹھوکریں ہیں جو اس خزانہ کو اندر باہر لے آتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page