دیباچہ
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال الرساله (اردو) دسمبر ۱۹۹۹ کے صفحہ نمبر ۴۳ پر کچھ مسلموں کے استفسار پر کہ ’’پیغمبر اسلام آخری پیغمبر ہیں۔ اس کی دلیل کیا ہے‘‘ جواب میں آپ نے ان سے کہا کہ ’’کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا۔ جس نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں ۔ یہی واقعہ اس کی تاریخی دلیل ہے۔‘‘ ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ماضی میں جن لوگوں نے پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا، ان کے اس دعویٰ کے بارے میں آپ کیا جواز پیش کریں گے ؟۔ مثلاً مسیلمہ کذاب اور غلام احمد قادیانی وغیرہ وغیرہ ۔ اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (عبدالقیوم شارق، مرتضیٰ پور، مہاراشٹر) جواب میرا کہنا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی شخص نے مستقل بالذات نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ یعنی کسی نے یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں ۔ رسول اللہ کے ہم عصر مسیلمہ بن حبیب الحنفی (وفات ۶۳۳ ء) نے مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ : اِ نَــسِیْ قَـــدْ اشركت فى الا مر معه ۔ سيرة ابن هشام ۲۴۴/۲ ۔ (یعنی میں محمدؐ کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہوں )۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسیلمہ کے دعویٰ کے مطابق اس کی نبوت کا معاملہ خود پیغمبر کی تصدیق حاصل کرے ۔ آپ نے مسیلمہ کو کاذب قرار دیا اس کے بعد اس کی نبوت کا دعویٰ اپنے آپ بے بنیاد ثابت ہوگیا۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی (وفات ۱۹۰۸) نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں ۔ اس نے ظل نبوت ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ یعنی میں محمدؐ کی نبوت کا سایہ ہوں ۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشگی طور پر فرما چکے ہیں کہ : لیس بعدی نبی ( صحیح البخاری، کتاب المغازی۔ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے مرزا غلام احمد کا دعویٰ بھی رسول اللہ کی تصدیق پر منحصر تھا اور آپ کی پیشگی تردید کی بنا پر یہ دعویٰ اپنے آپ باطل قرار پا گیا ۔ اسی طرح ایران کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader