Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

بہاء اللہ (وفات ۱۸۹۲ ء) کے بارے میں سمجھا جاتا ہی ہے کہ انھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ حالانکہ یہ درست نہیں۔ انھوں نے اپنی زبان سے کبھی یہ نہیں کہا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ انھوں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں ’’مظہر الہیٰ‘‘ ہوں۔ اس بنا پر وہ بنا پر وہ دعویٰ کے درجہ میں بھی اس فہرست میں نہیں آتے۔ اس سلسلہ میں مجھے ذاتی طور پر دو تجربے ہوتے ہیں۔ پہلا نرکاری مشن (نئی دہلی) کے گرو گر بچن سنگھ (وفات ۱۹۸۰) کے بارے میں ہے۔ ۱۹۷۵ میں نرکاری مشن کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے انگریزی میں چھپا ہوا ایک پمفلٹ مجھے دیا۔ اس میں لکھا تھا کہ بابا گر بچن سنگھ وقت کے پیغمبر (Prophet of Time) ہیں۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ میں آپ کے سنٹر میں آؤں گا اور بابا گر بچن سنگھ میرے سامنے یہ جملہ کہیں کہ ’’میں وقت کا پیغمبر ہوں‘‘۔ آپ لوگ بابا جی سے بات کر کے تاریخ اور وقت مقرر کر دیں تاکہ میں اس وقت وہاں پہنچ سکوں۔ ان لوگوں نے بابا جی سے گفتگو کر کے تاریخ اور وقت طے کیا اور پھر مجھے ٹیلیفون پر مطلع کیا۔ اس کے مطابق میں بابا جی کے یہاں پہنچا۔ میں بابا جی کے پاس ۲۵ منٹ تک رہا مگر انھوں نے اپنی زبان سے یہ نہیں کہا کہ میں وقت کا پیغمبر ہوں، اس کے بجائے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے، آخر کار میں واپس چلا آیا۔ میرا دوسرا تجربہ شانتی گری آشرم (تروند رم) کے گرو جی کے بارے میں ہے۔ وہ ۶ مئی ۱۹۹۹ کو آشرم میں انتقال کر گئے ۔ مارچ ۱۹۹۹ میں ان کے یہاں ایک کانفرنس ہوئی۔ ان کے کچھ شاگرد دہلی آے اور مجھے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ انھوں نے شانتی گری آشرم کے تعارف پر ایک انگریزی پمفلٹ مجھے دیا جس میں لکھا تھا کہ گرو جی وقت کے پیغمبر ہیں۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی کانفرنس میں آؤں گا اور میرا خاص مقصد یہ ہوگا کہ میں آپ کے گرو جی سے اس دعویٰ کی بابت سوال کروں۔ وہ خوشی سے راضی ہو گئے۔ میں سفر کر کے شانتی گری آشرم پہنچا جو تری وندرم ایرپورٹ سے تقریباً بیس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک سوا یکڑ رقبہ میں واقع ہے۔ یہاں میں نے دو دن قیام کیا۔ اس درمیان میں گرو جی سے دو بار ملاقات ہوئی ۔ ایک ملاقات میں ان کی شاگردوں کی موجودگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page