دیباچہ
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
میں بابا جی سے میں نے یہ سوال کیا: میرے اس سوال کے جواب میں بابا جی نے صاف طور پر کہا کہ نہیں، (No) میں ایسا دعویٰ نہیں کرتا۔ یہ دوسروں کے اوپر ہے کہ وہ میرے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں۔ اس گفتگو کے بعد میں نے ان کے مذکورہ شاگردوں سے کہا کہ جب آپ کے بابا جی پیغمبر ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے تو آپ لوگ کیسے انہیں پیغمبر بتاتے ہیں۔ اگر خدا کسی کو اپنا پیغمبر بنائے تو سب سے پہلے خود اس آدمی کو اپنے پیغمبر ہونے کا علم ہوگا، جس کو پیغمبر بنایا گیا ہے، نہ کہ اس کے سوا دوسرے لوگوں کو۔ اپنے مطالعہ اور تجربہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ کہنا کہ ’’میں خدا کا پیغمبر ہوں‘‘، ہمالیہ پہاڑ اپنے سر پر اٹھانے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ اس قسم کا جملہ وہی بول سکتا ہے جو واقعی خدا کا پیغمبر ہو ۔ غیر پیغمبر ایسا جملہ بولنے کی ہمت ہی نہیں کر سکتا۔ سوال آپ اکثر الرسالہ میں لکھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے مواقع کھل گئے ہیں اور بلا روک ٹوک اسلامی دعوت کا کام کیا جا سکتا ہے۔ مگر کچھ لوگ ہیں جو اس کے خلاف بتاتے ہیں۔ مثلاً ایک مسلم حلقہ کے ایک شاعر نے اپنے حلقہ کے فکر کی ترجمانی ایک شعر میں اس طرح کی ہے: جس نے بھی بات کی ہے نبی کے نظام کی سنی پڑی ہے طنز اسے خاص وعام کی آخر یہ دو طرح کی بات کیوں؟ ۔ دونوں میں سے کون سی بات صحیح ہے؟ ۔ (ایک قاری الرسالہ، دہلی) جواب اس قسم کے اشعار سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ شعر تو ایک لفظی تک بندی ہوتا ہے اور لفظی تک بندی آپ جس طرح چاہیں کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ متضاد انداز میں بھی ۔ مثلاً مذکورہ شعر کو لفظ بدل کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader