دیباچہ
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح برعکس طور پر بھی کہا جا سکتا ہے: جس نے بھی بات کی ہے نبی کے نظام کی اس کو ملی ہے داد خواص و عوام کی آپ تاریخ کی روشنی میں دیکھیں تو معاملہ بالکل مختلف نظر آئے گا۔ یہ ایک مسلم تاریخی حقیقت ہے کہ بنی کی’’بات‘‘ بیان کرنے والوں میں سے سب سے بڑا گروہ محدثین کا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ صحابہ کرام کے بعد امت میں سب سے زیادہ عزت و احترام جس کو ملا وہ یہی محدثین کا گروہ ہے۔ حتیٰ کہ آج بھی کسی دارالعلوم کے شیخ الحدیث کو جو مقبولیت حاصل ہوتی ہے وہ کسی اور کو نہیں ملتی ، اصل یہ ہے کہ مذکورہ شعر یا اس قسم کی بات کہنے والے دوسرے حضرات ایک مغالطہ کا شکار ہیں۔ وہ ’’نبی کی بات‘‘ اور ’’نبی کے نام پر اپنی بات‘‘ کے فرق کو نہیں جانتے۔ نبی کی بات کو کہنا اصل پیغام کو پہنچانا ہمیشہ لوگوں کے درمیان پسندیدہ کام رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ ’’نظام مصطفی‘‘ کے نام پر تحریکیں چلاتے ہیں اور ان کو مسائل کا شکار ہونا پڑتا ہے اس کا تعلق ’’نبی کی بات‘‘ سے نہیں ہے بلکہ نبی کے نام پر حکمرانوں کے خلاف ٹکراؤ کی سیاست چلانے سے ہے اور ٹکراؤ کی سیاست ہمیشہ ٹکراؤ پیدا کرتی ہے۔ نظام مصطفیٰ کے خود ساختہ علم بردار لوگ خود اپنی غیر پیغمبرانہ سیاست کی قیمت پارہے ہیں اور اس کو خلاف واقعہ طور پر پیغمبر سے منسوب کرتے ہیں، صرف اس لئے کہ انہوں نے اپنی یہ غیر پیغمبرانہ سیاست پیغمبر کے نام پر چلائی تھی۔ سوال مسلمان اپنے آپ کو ہندو کہلوانا کیوں ناپسند کرتے ہیں؟۔ ہندو کوئی مذہبی شبہ نہیں ۔ یہ ایک جغرافی شبہ ہے۔ بھارت کے جغرافیہ میں جو لوگ رہتے ہیں وہ سب ہندو ہیں ، ٹھیک اسی طرح جس طرح جرمنی کے جغرافیہ میں رہنے والے سب جرمن ہیں۔ اس دیش میں ہند واور مسلمان دونوں ہندو ہیں۔ مسلمان اگر اس بات کو مان لیں تو ہمارے دیش کا سارا جھگڑا ختم ہو جائے اور یہاں سماجی امن قائم ہو جائے (ایم۔ ایس۔ شرما، نئی دہلی)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader