دیباچہ
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب جرمنی میں رہنے والے تمام لوگ اس لئے جرمن کہے جاتے ہیں کہ ان کے کانٹی ٹیوشن میں ایسا لکھا ہوا ہے۔ مگر انڈیا کے کانٹی ٹیوشن میں ایسا نہیں۔ اس کے مطابق اس ملک میں رہنے والے سب لوگ انڈین یا بھارتی ہیں۔ لہذا جرمن اور ہندو کے معاملہ کو یکساں کیسے بتایا جاسکتا ہے۔ اس معاملہ کی دوسری نظریاتی بنیاد یہ ہو سکتی تھی کہ یہاں کی قدیم کتابوں میں ایسا لکھا ہوا ہو۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے ، وید یا پران یا گیتا میں یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ اس دیش میں رہنے والے سب کے سب ہندو ہیں۔ بلکہ ہند و کا شبد تو ان کتابوں میں موجود ہی نہیں۔ پھر آخر وہ کون سی نظریاتی دیل ہے جس کی بنیاد پر ایسا کہا جائے ۔ محض کسی کا دعویٰ اس تصور کی بنیاد نہیں بن سکتا ۔ ورنہ دوسرے لوگ بھی ایسا ہی دعویٰ کر سکتے ہیں۔ مثلاً لوگ کہہ سکتے ہیں کہ عیسائی ان کا مذہبی نام نہیں ہے۔ ان کا اپنا اختیار کردہ نام مسیحی یا کر چین ہے۔ عیسائی دراصل ایک جغرافی شبد ہے اور اس ملک کے رہنے والے سب کے سب عیسائی ہیں۔ اگر محض دعویٰ کافی ہو تو ہر گر وہ اس قسم کا دعوی کر سکتا ہے۔ جہاں تک سماجی امن کا تعلق ہے، اس کا ہند و نظر یہ سے کوئی تعلق نہیں۔ محض کسی لفظ کے ادل بدل سے سماجی جھگڑے کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ مہاتما گاندھی اور گاڈ سے دونوں اپنے کو ہندو کہتے تھے، اس کے باوجود گاڈ سے نے گاندھی کو مار ڈالا۔ بہار کے اونچی ذات کے ہندو اور نیچی ذات کے ہندو دونوں اپنے کو ہندو کہتے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ اٹل بہاری واجپئی اور کلیان سنگھ دونوں مذکورہ معنوں میں اپنے کو ہند و بتاتے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں میں اتنا اختلاف پیدا ہوا کہ دونوں الگ الگ ہو گئے ۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس قسم کے کلچرل اختلاف کو مٹانے کے بجائے اس معاملہ میں ہر ایک کو آزادی دے دی جائے۔ گرو گولوالکر نے درست طور پر کہا تھا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے Nature abhors uniformity: اور جب خود فطرت ہی میں فرق اور تنوع موجود ہے تو اس کو مٹانا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ حقیقت یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader