دیباچہ
Urdu book, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی گوشے میں سمٹ کر زندگی کے بقیہ ایام پورے کر کے مر جائیں۔۔۔ پہلی صورت اقدام کی ہے، دوسری تحفظ کی۔ سوال ایک صاحب قاہرہ سے لکھتے ہیں: ”آپ کی کتاب جو یہاں حكمة الدين کے نام سے شائع ہوئی ہے اس پر ایک جدال پیدا ہو گیا ہے۔ کچھ لوگ اس کے سخت موئید ہیں اور کچھ لوگ سخت مخالف۔ قاہرہ یونیورسٹی کے طلباء کے درمیان اس کتاب کے بارے میں سمینار بھی ہو چکا ہے۔ مخالف گروپ کا کہنا ہے کہ آپ نے جہاد ہی کو ختم کر دیا ہے اور دین کو صوم وصلوٰة میں محدود کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں کے جرائد میں بعض تنقیدی مضامین بھی شائع ہوئے ہیں۔“(الرسالہ فروری ۱۹۷۷ء) جواب جہاد بلا شبہ اسلام میں افضل ترین عبادت ہے۔ مگر جہاد کو قتال کے معنی میں لینا اتنا ہی غلط ہے جتنا اس کو دین کی فہرست سے خارج کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ امت محمدی کا جہاد، دعوت ہے۔ قرآن میں شہادت حق کی راہ میں قوت صرف کرنے کو جہاد کہا گیا ہے (حج۔ آخر) دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ قرآن کے ذریعہ لوگوں کے اوپر تبلیغی جہاد کرو (فرقان۔ ۵۲)۔ قرآن میں دعوت کا حکم آیا تو خود اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک بھاری حکم (مزمل۔ ۵) قرار دیا۔ دعوت وتبلیغ کو اتنا بڑا کام بتایا گیا کہ اس میں پوری طرح طرح لگنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہلاک کرلے (لعلک باخع نفسک) موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی تحریکوں سے جو غلطیاں ہوئیں ان میں یہ غلطی سر فہرست ہے کہ انھوں نے جہاد کا مطلب قتال یا سیاسی معرکہ آرائی سمجھ لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاد کا میدان، دعوت کے بجائے سیاست بن گیا اور مومنانہ سرفروشی کے جذبہ کی تسکین کے لئے اس دنیا میں صرف دو کام باقی رہ گئے۔۔۔۔ اگر موقع ہو تو تلوار زنی ورنہ تقریر بازی۔ مصر، الجزائر اور ہندوستان اس کی نمایاں مثال ہیں۔ ان علاقوں میں جب’’ استعمار‘‘ یا ’’باطل اقتدار‘‘ کے خلاف جنگ کے پیکار کے مواقع تھے تو لاکھوں مجاہدین اپنے جان و مال کی قربانی دیتے رہے، اور جب اس کا موقع ختم ہو گیا تو اب انھیں اس کے سوا کوئی کام نظر نہیں آتا کہ مفروضہ طاغوتی سیاست کے خلاف تحریر وتقریر کے لفظی طوفان برپا کرتے رہیں، اور جب اس کا موقع بھی باقی نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader