Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

رہے تو گوشہ گیر ہو کر "ختم خواجگان" کے دور شروع کر دیں ! جہاد ہی وہ طاقت ہے جس سے اسلام اس زمین پر قیام و استحکام حاصل کرتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانہ پر جذ بہ جہاد کے استعمال کے باوجود اسلام کو اس دور میں قیام و استحکام حاصل نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد کا جذبہ اپنے نکاس کا صحیح راستہ نہ پا سکا اور غلط سمت میں بہہ کر ضائع ہو گیا ۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک بڑے دریا کا پانی بے پناہ مقدار میں بہہ کر سمندر میں جا گرے اور اس کے ساحل کے دونوں طرف کھیتیاں پانی نہ ملنے کے باعث سوکھ کر ختم ہو رہی ہوں ۔ صرف اس لئے کہ دریا کے پانی کو ان کھیتوں کی طرف موڑنے کا انتظام نہ ہو سکا تھا۔ دعوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے کان میں کچھ الفاظ ڈال دیے جائیں یا ان کی غلط روش پر تنقید کر دی جائے... حقیقت یہ ہے کہ دعوت ایک انتہائی قربانی کا عمل ہے ۔ اپنا وقت ، اپنے جذبات ، اپنا مال غرض اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے بعد وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو دعوت کہتے ہیں ۔ قرآن میں حکم ہے کہ مدعو کے لئے داعی کے دل میں انتہائی خیر خواہی ہو ، جو بات کہی جائے وہ قول بلیغ کی زبان میں اور مخاطب کی اپنی قابل فہم اصطلاحوں میں ہو ، مدعو کی طرف سے ہر قسم کی ایذا پر مکمل صبر کیا جائے ۔ مدعو کی طرف سے کسی اجر کی توقع نہ رکھتے ہوئے اپنا مال اور اثاثہ اس راہ میں خرچ کیا جائے ۔ مدعو کی طرف سے اعراض پر جھنجھلانے کے بجائے اس کی ہدایت کے لئے دعائیں کی جائیں ، ہر ممکن طریقے سے مدعو کی تالیف قلب کی جائے ۔ دعوتی کام کو مسلسل تا عمر جاری رکھا جائے ۔ ایسا ایک عمل اگر اس کے پورے آداب کے ساتھ شروع کیا جائے اور اس کا مکمل حق ادا کیا جائے تو یہ اتنا بڑا اور اتنا نفس کش عمل ہے کہ بڑے سے بڑے انسان کی شخصیت اس کی ذمہ داریوں سے بلبلا اٹھے اور کبھی اس کی ادائیگی کی طرف سے اپنے کو سبکدوش نہ سمجھے۔ اس دعوتی عمل کے ظہور کے لئے قدیم زمانہ میں جو طریقے رائج تھے ، اب ان میں بے شمار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page