Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال آج کل دستور ہند میں تبدیلی کی بحث چھیڑی ہوئی ہے۔ کوئی تبدیلی کی موافقت میں رائے دیتا ہے اور کوئی اس کی مخالفت میں ۔ اس معاملہ میں آپ کی رائے کیا ہے؟۔ براہ کرم مطلع فرمائیں۔ (ودود ساجد، نئی دہلی) جواب دستور ہند میں تبدیلی کی بحث میں ایک رائے یہ سامنے آرہی ہے کہ دستور میں تبدیلی ہونی چاہئے اور دوسری رائے یہ ہے کہ دستور میں تبدیلی نہیں ہونی چاہئے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہاں تیسری رائے کا بھی امکان ہے اور وہ یہ کہ دستور ہند میں تبدیلی بے فائدہ ہے۔ اس سلسلہ میں پہلا سوال یہ ہے کہ دستور ہند میں تبدیلی کیوں؟ ۱۹۷۳ کے بعد جب یہ دستور بنا تو اس وقت ملک کے انتہائی اعلیٰ ذہن دستور ساز اسمبلی کے ممبر تھے۔ انھوں نے لمبی بحث اور گفتگو کے بعد یہ دستور بنایا۔ اب کیا ان سے زیادہ بہتر دماغ ہمیں حاصل ہو گئے ہیں جو اس سے اچھا دستور بنا سکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شخص ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ پھر تبدیلی کس لئے۔ دوسری بات یہ کہ دستور میں تبدیلی ہمارے قومی مسائل کا حل ہے، اس کا دعویٰ کرنا بھی مشکل ہے۔ اس لئے کہ اگر دستور کی ترمیم سے مسئلہ حل ہوتا ہو تو اب تک اس کو حل ہو جانا چاہئے تھا، کیوں کہ پچھلے پچاس سال کے دوران اس میں ستر بار سے زیادہ ترمیمات ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ پھر ایک اور ترمیم سے یہ مسئلہ کیسے حل ہو جائے گا۔ تیسری صورت ترمیم برائے ترمیم کی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اور بھی زیادہ بے معنی ہے۔ کوئی بھی شخص یہ کہنے کی جرأت نہیں کرے گا کہ ترمیم ایک مسلسل عمل ہے جس کو ہر حال میں جاری رہنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اصل سوال یہ نہیں ہے کہ دستور میں ترمیم کی ضرورت ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترمیم کے باوجود یہ ضرورت کیوں باقی ہے۔ کیوں ایسا ہے کہ ترمیم کے باوجود ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے۔ اس کا جواب صرف ایک ہے اور وہ ہے تعلیم میں ملک کا پچھڑا پن۔ تعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے اور اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page