دیباچہ
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اندر اصلاح کی قبولیت پیدا کرتی ہے۔ جب تک یہ ابتدائی کام نہ ہو، کوئی دوسری تدبیر ہمارے مسائل کو حل کرنے والی نہیں۔ سوال ہم لوگوں نے ہند ومسلم میل ملاپ کا ایک منچ بنایا ہے۔ اس کے بارے میں ہم کو مارگ درشن کریں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب مذاہب ایک ہیں۔ جیسے رام ویسے محمد۔ یہ بات دونوں مان لیں تو آپس میں اپنے آپ میل ملاپ ہو جائے گا۔ (بلراج ملک اور و جے آنند، پانی پت) جواب ہند و مسلم میل ملاپ کا مقصد بہت اچھا ہے۔ مگر سب مذاہب ایک ہیں“ کے نظریہ سے یہ مقصد حاصل ہونے والا نہیں۔ اس لئے کہ یہ بات اصل واقعہ کے خلاف ہے۔ مثلاً ہند وعقیدہ کے مطابق ۔ رام خدا کے اوتار تھے ، یعنی ان کی صورت میں خود خدا مجسم ہو کر آیا۔ مسلمان اوتارواد کے اس عقیدہ کو نہیں مانتے ۔ ان کے نزدیک محمد ﷺ ایک انسان تھے جن پر خدا نے اپنی وحی بھیجی ۔ ایسی حالت میں دونوں کو ایک کہنے سے جس چیز کو فروغ ہوگا وہ منافقت (hypocrisy) ہے نہ کہ فرقہ وارانہ میل ملاپ۔ ہندو مسلم میل ملاپ کا منچ بنانے کے لئے مفید طریقہ یہ ہے کہ اس کو سیکولر پیٹرن پر بنایا جائے نہ کہ کسی مذہبی پیٹرن پر۔ 1947ء سے پہلے کانگریس کے لوگ جو اسٹیج بناتے تھے اس پر ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی کافی تعداد میں آتے تھے ۔ مگر آج ہند و تو کو ماننے والے جو اسٹیج بناتے ہیں اس پر زیادہ تر صرف ایک فرقہ کے لوگ آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ہندوتو والا اسٹیج بناتے ہیں وہ وہاں سرسوتی دیوی کی وندنا کرتے ہیں اور کھڑے ہو کر بندے ماترم گاتے ہیں ۔ مسلمان چونکہ ان چیزوں سے بھڑکتے ہیں اس لئے وہ ایسے اسٹیج پر اکٹھا نہیں ہوتے۔ جب کہ کانگریس کے اسٹیج پر اس قسم کی مذہبی رسمیں نہیں تھیں بلکہ وہ بالکل سیکولر انداز میں ہوتا تھا۔ اس لئے وہاں ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی یکساں طور پر شریک ہوتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader