دیباچہ
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آپ ہندوئوں اور مسلمانوں کا مشترک منچ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ایسی چیزوں سے بچنا ہوگا جو دونوں کے لئے حساس اشو (sensitive issue) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً اگر آپ اپنے منچ پر یہ کہیں کہ اجودھیا کے موجودہ عارضی مندر کو ڈھا کر وہاں دوبارہ بابری مسجد بنائی جائے تو ایسے منچ پر مسلمان تو آ سکتا ہے مگر وہاں ہندو نہیں آئے گا۔ اسی طرح اگر آپ اپنے منچ پر یہ کہیں کہ جانوروں کا ذبیحہ بالکل ختم کر دیا جائے تو ایسے منچ پر ہندو آ سکتے ہیں مگر وہاں مسلمان نہیں آئے گا۔ اس لئے آپ کو دونوں فرقوں کے میل ملاپ کا منچ بنانا ہے تو آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ اس قسم کے حساس اشو کو نظر انداز کریں اور صرف ان باتوں کو لیں جو دونوں کے درمیان مشترک ہیں ۔ مثلاً امن، باہمی محبت، سوشل جسٹس، تعلیم، ملک کی مادی تعمیر، سماج سدھار وغیرہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالت میں ہندوستان کے لئے وہی قابل عمل ہے جو یورپ اور امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ انھوں نے اس معاملہ کا ایک عملی فارمولا دریافت کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پرائیویٹ دائرہ میں ہر آدمی کے لئے مذہب کی مکمل آزادی اور اجتماعی دائرہ میں مشترک مفاد والی باتوں پر زور دینا۔ موجودہ حالات میں ہم کو بھی یہی کرنا چاہئے ۔ میرے نزدیک فرقہ وارانہ میل ملاپ یامذہبی ہم آہنگی کا بہترین قابل عمل فارمولا یہ ہے کہ ایک پر عمل کرو اور سب کا احترام کرو: Follow one, and respect all. برصغیر ہند کے تقریباً ۵ ملین ہندو اور مسلمان امریکہ میں رہتے ہیں ۔ وہاں دونوں کے درمیان کوئی مذہبی جھگڑا نہیں ۔ دونوں نے بڑی تعداد میں مسجد اور مندر بنائے ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے انداز پر اپنے مذہبی فرائض کو ادا کرتا ہے ۔ پھر اگر امریکہ میں ہندو اور مسلمان مذہبی یکسانیت کے فارمولا کے بغیر اتحاد کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو یہی چیز ہندوستان میں کیوں ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader