دیباچہ
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (The Satanic Verses) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کہا جاتا ہے کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اس کا مصنف ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوا ہے جس کی سزا سخت ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟۔ (نکہت کاظمی، نئی دہلی) جواب اسلام کی تعلیمات حقیقت پسندی پر مبنی ہیں اس طرح کے معاملات کو اسلام میں جذباتی نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ رزلٹ کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی لئے قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم باطل معبودوں کو برا نہ کہو ورنہ لوگ جہالت کی بنا پر خدا کو برا کہنے لگیں گے (الانعام ۱۰۸)۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم مدینہ کے سب سے بڑے گستاخ عبداللہ بن ابی کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے طاقت کے باوجود قتل نہیں کرایا۔ اس کی وجہ آپ نے یہ بتائی کہ اگر میں ایسا کروں تو وہ اسلام کی بدنامی کا باعث ہوگا۔ چنانچہ عبداللہ بن ابی اپنی طبعی موت مرا اور اس کو قتل نہیں کیا گیا، حالانکہ اس وقت عبداللہ بن ابی کو قتل کرنا بالکل آسان تھا۔ سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ ۷ فروری ۱۹۸۹ء کو دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کو اب تقریباً ۱۲ سال ہو رہے ہیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھے تو اس فتویٰ نے صرف الثانیہ نتیجہ پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد ساری دنیا میں بڑے پیمانے پر اسلام کی بدنامی ہوئی۔ اسلام کو نفرت اور تشدد کے مذہب کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا۔ اس کتاب کے خلاف فتویٰ اور شور و غل سے اس کے مصنف کو تو زبر دست فائدہ حاصل ہوا، جب کہ اسلام اور مسلمانوں کے حصہ میں صرف اس کا نقصان آیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ میڈیا کا دور تھا اور جدید میڈیا کے دور میں یقیناً وہی ہونے والا تھا جو عملاً پیش آیا۔ سلمان رشدی کی مذکورہ کتاب میں نے پڑھی ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب تصنیفی اعتبار سے اس قدر لغو اور غیر دلچسپ ہے کہ شاید کوئی بھی شخص اس کو شروع کر کے ختم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader