Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں کر سکتا۔ عام حالت میں وہ ایک ایسی کتاب تھی جو اپنی لغویت کی بنا پر اپنے آپ مر جاتی۔ اس کو نہ کوئی خریدتا اور نہ اس کو کوئی پڑھتا۔ مگر مصنف کے قتل کے فتوی کے بعد جب میڈیا میں اس کا چرچا ہوا تو فطری طور پر لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس طرح ایک ناقابل مارکیٹ کتاب بھی قابل مارکیٹ (marketable) کتاب بن گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس فتنہ کا صحیح ترین حل یہ تھا کہ اس کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا اور اس طرح یقینی طور پر وہ اپنے آپ مر جاتا۔ اس طرح کے مسئلہ کا صحیح ترین حل وہ ہے جو اسلام کے خلیفۂ ثانی عمر فاروق کے ایک قول میں ملتا ہے۔ انھوں نے کہا: امیتوا الباطل با لصمت عنہ ۔ یعنی باطل کو ہلاک کرو اس پر چپ رہ کر: Kill the falsehood by observing silence over it. سوال آجکل میں دیکھ رہا ہوں کہ سارے لوگ آپ کی بولی بول رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ آپ کے مخالفین بھی آپ کا نام لئے بغیر آپ کی باتوں کو دہرارہے ہیں ۔ مثال کے طور پر ماہنامہ میثاق (اپریل ۲۰۰۰) میں پاکستان کی تنظیم اسلامی کے امیر کا مفصل خطاب چھپا ہے ۔ اس میں انھوں نے صلح حدیبیہ کی پالیسی کی حمایت کی ہے اور یہ کہا ہے کہ ’’بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کے طرز کی مفاہمت ‘‘ ہمارے مسئلہ کا حل ہے ۔ حالانکہ یہ صاحب پہلے آپ کے مخالف تھے اور جوش وخروش کے ساتھ مسلح جدوجہد (armed struggle) کی بات کیا کرتے تھے ۔ یہی بات دوسرے اکثر لکھنے اور بولنے والوں میں دیکھی جا رہی ہے ۔ اس طرح آپ کے اعتراف کے بغیر تقریباً تمام لوگوں نے آپ کے نقطہ نظر کو مان لیا ہے ۔ اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہے ؟۔ (عبدالرحمن ، نئی دہلی ) جواب یہ بات عملی طور پر اطمینان بخش ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اب عام طور پر حقیقت پسندی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں ۔ مگر میرے لئے اس میں بہت زیادہ خوشی کی بات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page