دیباچہ
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں۔ میں حدیبیہ کی وکالت بطور ایک اصول کرتا رہا ہوں۔ مگر یہ حضرات اس کو ایک مجبوار نہ عمل کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔ مثلاً ماہنامہ میثاق کے مذکورہ خطاب میں حدیبیہ پالیسی کی وکالت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کے طرز کی مفاہمت کرنی چاہئے (۲۵) پاکستان جس مسئلہ سے دوچار ہے اس کا علاج صلح حدیبیہ ہے (۱۵) پاکستان کے لئے جنگ جیتنا ممکن نہیں کیوں کہ پاکستان سے کہیں زیادہ ایٹم بم بھارت کے پاس موجود ہیں۔ (۲۲)۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں جو کچھ کہتا ہوں، بطور اصول کہتا ہوں نہ کہ بطور مجبوری۔ صبر میرے نزدیک ایک اعلیٰ اصول ہے نہ کہ مجبورانہ روش۔ اسی طرح صلح حدیبیہ میرے نزدیک ایک اعلیٰ اسلامی اصول ہے، وہ کوئی مجبورانہ پالیسی نہیں۔ میں اس کا قائل نہیں ہوں کہ جب مجبوری کی فضا نہ ہو تو مسلح تصادم کی باتیں کی جائے اور جب مجبوری کی حالت پیش آجائے تو صلح حدیبیہ کا وعظ شروع کر دیا جائے۔ صلح حدیبیہ میرے نزدیک دعوتی عمل کو موثر طور پر جاری رکھنے کی ایک حکیمانہ تدبیر ہے نہ کہ کسی قسم کی مجبورانہ روش۔ سوال میں آپ کے الرسالہ کا خریدار ہوں۔ ایک حدیث کی وضاحت چاہتا ہوں۔ حدیث یہ ہے: اذان کے وقت کی دعا قبول ہوتی ہے کیا مطلب ہے؟۔ کیا باقی اوقات میں اللہ تعالیٰ دعا قبول نہیں کرتا؟۔ یہ حدیث صحیح ہے یا غلط ہے یا مشکوک ہے۔ معلوم کریں۔ (محمد موسیٰ، مانوی، 584123 - Pin) جواب آپ نے حدیث کا ذکر کیا ہے اس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ان الدعاء لا يرد بين الاذان والاقامة فادعوا (مسند احمد، الترمذی، کتاب الصلاة) یعنی اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی، پس تم اس وقت اللہ سے دعا کرو۔ اس حدیث میں جو بات وقت کے حوالہ سے کہی گئی ہے وہ دراصل کیفیت کے حوالہ سے مقصود ہے۔ اذان کو سن کر مومن کے اندر یاد خدا کی کیفیات پیدا ہوتی ہے۔ اس بنا پر اس وقت کی دعا میں وہ تاثیر پیدا ہو جاتی ہے جو قبولیت کی علامت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader