دیباچہ
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث کا خطاب اس مومن سے ہے جس نے مسجد سے اذان کی آواز سنی اور پھر اس کے دل میں وہ ربانی جذبات پیدا ہونے لگے جن کا اعلان اس وقت موذن کر رہا تھا۔ وہ اللہ کی کبریائی اور اسکی عظمت کے احساسات سے بھرا ہوا مسجد میں آیا۔ یہاں اس نے وضو کر کے اپنے کو پاک کیا، یہاں تک کہ اس کی زبان سے نکلا: رب اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين۔ اس کے بعد وہ مسجد کے خدا پرستانہ ماحول میں داخل ہوا اور سنت کی رکعتیں ادا کر کے اللہ کی یاد کو اپنے دل میں تازہ کیا۔ اس طرح اذان اور اقامت کے درمیان وہ ایک ایسا انسان بن گیا جو ایمانی جذبات سے سرشار تھا اور نفسیاتی اعتبار سے اس قابل بن چکا تھا کہ اس کی زبان سے ایسے پاکیزہ کلمات نکلیں جو سیدھے اللہ تک پہنچ جائیں۔ یہی وہ انسان ہے نہ کہ وہ وقت جس کو خطاب کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ اے بندے خدا سے دعا کر، کیوں کہ اس وقت تو جس حال میں ہے اس حال میں کی ہوئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ یہاں دعا کا مطلب دعا کے الفاظ منہ سے بول دینا نہیں ہے بلکہ دعا کا حقیقی عمل کرنا ہے۔ دعا کا عمل یہ ہے کہ آدمی جذبہ احتیاج کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو۔ ایک طرف اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کو یاد کر کے وہ اس کو پکارے۔ جب ایک بندہ اس عمل دعا کے لئے بیٹھے تو اذان اور اقامت کے درمیان کا وقت اس عمل کے لئے اسی طرح انتہائی معاون ثابت ہوگا جس طرح گرمی کا موسم لکڑی میں آگ لگانے کے لئے معاون ہوتا ہے۔ جس طرح گرمی کے ماحول میں جلانے کا عمل کیا جائے تو لکڑی فوراً آگ پکڑ لیتی ہے اسی طرح جب اذان اور اقامت کے درمیان پر اثر ماحول میں ایک شخص دعا کا عمل کرے تو اس کے اندر وہ کیفیات امنڈ پڑتی ہیں جو اس کی دعا کو حقیقی معنوں میں بندے کی پکار بنا دیں۔ جو اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو وہ ربانی الفاظ بنا دیں جس کے بعد دعا کی قبولیت کا معاملہ ٹھیک ویسا ہی بن جاتا ہے جیسے گرمی کے موسم میں لکڑی کو جلانا۔ سخت گرمی کے موسم میں دیا سلائی جلاتے ہی لکڑی آگ کو پکڑ لے گی اسی طرح اذان اور اقامت کے درمیان پر اثر فضا تیار ہو جاتی ہے جب کہ بندہ کی زبان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader