دیباچہ
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
سے حقیقی دعا نکلے اور اس کا رب اس کو فوراً قبول کرلے۔ سوال آپ نے الرسالہ مئی ۲۰۰۰ء میں لکھا ہے کہ الجزائر کے اسلام پسندوں کو بندوق اٹھانے کے بجائے اسلامی دعوت کا کام کرنا چاہئے۔ گویا کہ آپ اسلام کو سیاست سے دور رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ اسلامی شاعر کے بقول: جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔ (م۔ا۔معراج، ناندیر) جواب مسئلہ دین کو سیاست سے جدا کرنے کا نہیں ہے بلکہ دین کو چنگیزی سے جدا کرنے کا ہے۔ دین کے نام پر سیاست چلانا خود چنگیزی کی بد ترین قسم ہے۔ کیوں کہ اس قسم کی سیاست سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ دین نہیں ہے بلکہ سیاسی ہنگامہ آرائی، تشدد اور باہمی جنگ وجدال ہے۔ جس کا نمونہ آج ہر اس جگہ نظر آتا ہے جہاں نام نہاد اسلام پسند اسلام کے نام پر اپنی سیاست چلا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دین جب جدا ہوتا ہے تو سیاست سے جدا نہیں ہوتا بلکہ وہ انسان سے جدا ہوتا ہے۔ انسان کے دل سے جب اللہ کا خوف نکل جاتا ہے تو اس کی سیاست اور غیر سیاست سب چنگیزی بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو انسان اللہ کی پکڑ کا اندیشہ رکھتا ہو اس کی سیاست بھی رحمت ہوگی اور اس کی غیر سیاست بھی رحمت۔ سوال آپ کے خیال میں علم و فکر کی فوقیت عمل پر ہے جیسا کہ عام خیال ہے کہ عمل پہلے ہے اور فکر بعد میں۔ اسلام کی روشنی میں واضح فرمائیں۔ (طارق اشفاق، علی گڑھ) جواب اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ کامن سنس ہی اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ کوئی بھی آدمی جو کوئی بڑا عمل کرتا ہے، اس کے عمل کا آغاز فکر کی دنیا سے ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر فکر کی سطح پر ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ خارجی عمل کی صورت اختیار کرتی ہے۔ یہی معاملہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader