دیباچہ
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان و عمل کا بھی ہے۔ اسلام میں بھی خارجی عمل کا اصل سر چشمہ داخلی ایمان ہے۔ کسی آدمی کے اندر جتنا گہرا ایمانی شعور پیدا ہوگا، خارجی دنیا میں اتنا ہی زیادہ اس سے عمل کا اظہار ہوگا۔ سوال کیا مادیت اپنے زوال کے بعد از سر نو عروج کو پہنچے گی؟ کیا جدید مادیت کا زوال ہو رہا ہے؟ اگر زوال ہو رہا ہے تو اس کی علامتیں کیا ہیں اور اگر زوال نہیں ہو رہا ہے تو آئندہ کب اس کا زوال ہو گا ؟۔ کیوں کہ فارسی کا ایک مقولہ ہے کہ: ہر کمالے را زوال ( طارق اشفاق ، علی گڑھ ) جواب میٹریلزم کے دو مطلب ہیں۔ فلسفیانہ معنوں میں میٹریلزم خدائی مذہب کے بالمقابل ایک اور مذہب کی حیثیت رکھتا ہے جو صرف مادہ کو واحد حقیقت مانتا ہے۔ In philosophy, the doctrine that matter is the only reali ty and that everything in the world, including thought, will, and feeling, can be explained only in the terms of matter. (Webster's, p. 1110) میٹریلزم اس مفہوم میں عملاً اب ختم ہو چکا ہے۔ جدید سائنس نے میٹریلزم کے اس تصور کو مکمل طور پر بے بنیاد ثابت کر دیا ہے جس کے اوپر مادی فلسفہ کا نظریہ قائم تھا۔ میٹریلزم کے لئے اب کوئی نظریاتی بنیاد نہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب ’’ مذہب اور سائنس‘‘۔ میٹریلزم کا دوسرا مفہوم وہ ہے جو عملی طور پر لوگوں کے اندر قائم ہے یعنی مادی خوشی یا مادی فائدے کو سب کچھ سمجھنا۔ مادی ترقی کو زندگی کا مقصد قرار دینا۔ اس دوسرے مفہوم میں میٹریلزم ہر دور میں تھی اور آج بھی وہ پوری طرح زندہ ہے۔ بیشتر لوگ اس کو اپنا مقصد بنائے ہوئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق اس دوسرے مفہوم میں میٹریلزم کبھی مرنے والا نہیں۔ وقتی لذت یا وقتی خوشی کا فریب اتنا زیادہ پرکشش ہے کہ آدمی اس کے سحر سے نجات نہیں پائے گا۔ اس لئے وہ کبھی اس مفہوم میں میٹریلزم کو نہیں چھوڑے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader