دیباچہ
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاں تک مادی تہذیب کا تعلق ہے ، وہ میرے نزدیک مستقل بالذات کوئی چیز نہیں ۔ انسانوں کی مادیت پسندی اجتماعی صورت اختیار کر کے تہذیب بن جاتی ہے ۔ میرے نزدیک تاریخ کی ہر تہذیب بنیادی طور پر مادی تہذیب ہی تھی اس لئے اگر ایک مادی تہذیب مٹے تو عملاً صرف یہ ہوگا کہ اس کی جگہ دوسری مادی تہذیب غالب آجائے گی ۔ اس دنیا میں فرد کی حیثیت سے غیر مادی انسان کا وجود تو ممکن ہے مگر اجتماعی معنوں میں کسی ایسی انسانی تہذیب کا قائم ہونا شاید ممکن نہیں جو مجموعی معنوں میں غیر مادی اصول پر قائم ہو۔ سوال موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے بارے میں سنجیدہ لوگ عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی سوچ کے اعتبار سے جذباتی ہو گئے ہیں ۔ ان کے اندر حقیقت پسندانہ مزاج موجود نہیں ۔ جب کہ کسی بھی ترقی کے لئے غیر جذباتی سوچ اور حقیقت پسندانہ مزاج لازمی طور پر ضروری ہے ۔ موجودہ مسلمانوں کا یہ مزاج کیسے بنا اور اس کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے؟۔ (ڈاکٹر کے۔ عبدالستار ، مدراس) جواب میرے نزدیک اس غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا آغاز زیادہ نمایاں طور پر انیسویں صدی میں ہوا۔ اس زمانہ میں مغربی قومیں مسلم علاقوں میں داخل ہوگئیں ، انھوں نے تقریباً ہر جگہ براہ راست یا بالواسطہ انداز میں سیاسی اور تہذیبی طور پر غلبہ حاصل کر لیا۔ یہ وقت معاملہ کی تشخیص کا تھا۔ بدقسمتی سے اس وقت کے مسلم رہنماؤں نے معاملہ کی غلط تشخیص کر کے مسلمانوں کی سوچ کو غلط رخ پر ڈال دیا۔ ان حضرات نے مسلمانوں کو بتایا کہ اس واقعہ کے پیچھے تمام تر مغربی قوموں کی سازش اور ان کی دشمنی ہے۔ جب کہ صحیح بات یہ تھی کہ مسلمان اب اپنے دور زوال میں پہنچ چکے تھے اور دوسری طرف مغربی قو میں تازہ دم قوتوں سے مسلح ہو کر آرہی تھیں۔ اس کے بعد جو کچھ قانون فطرت کے تحت ہوا وہ عین وہی تھا جو مقابلہ کی اس دنیا میں ہمیشہ پیش آتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader