Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وقت مسلم رہنماؤں کو چاہئے تھا کہ وہ مسلمانوں سے یہ کہیں کہ جو کچھ ہوا ہے وہ قانون فطرت کے تحت ہوا ہے اور خود تمہاری اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ ایسا کہتے تو مسلمانوں میں تعمیر خویش کا جذبہ جاگ اٹھتا مگر جب انہوں نے اس معاملہ کو اغیار کی سازش اور دشمنی کا نتیجہ قرار دیا تو مسلمانوں میں غیر قوم کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی۔ پورا مسلم معاشرہ منفی سوچ کا شکار ہو گیا۔ اس کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو آپ نے جذباتی سوچ کا نام دیا ہے۔ اس طرح تقریباً دو سو سال پہلے مسلمانوں کے اندر جذباتی طرز فکر شروع ہوا۔ وہ بڑھتے بڑھتے پوری مسلم ملت پر چھا گیا۔ اب ضرورت ہے کہ اس جذباتی طرز فکر کو توڑا جائے اور لوگوں میں حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے۔ مگر یہ کام ایک بھاری قربانی چاہتا ہے اور وہ قربانی شخصی مقبولیت کی قربانی ہے۔ جو آدمی اس مزاج کو ختم کرنے کے لئے اٹھے گا یقینی طور پر وہ مسلمانوں میں غیر مقبول ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ملت کے فہیم حضرات مصلحت کا انداز اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے مزاج کو توڑنے کے بجائے اس کو وہ غذا دے رہے ہیں جو اس کو پسند ہے تا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے اندر غیر مقبول ہونے سے بچائیں۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو ایک ڈیگل کی ضرورت ہے۔ یعنی وہ شخص جو اپنی مقبولیت کی موت کے اوپر مسلمانوں کی زندگی کی بنیاد رکھ سکے۔ جو مسلمانوں کی جذباتیت کو ختم کر کے ان کو حقیقت پسند بنائے، جو آدمی جذباتی تسلسل کو توڑنے کی کوشش کرے گا، ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کی پہلی نسل میں غیر مقبول ہو جائے مگر یہی وہ حوصلہ مند شخص ہے جو اپنی ذاتی قربانی کی بنیاد پر ملت کے مستقبل کی تعمیر کرے گا۔ تاریخ کو ایسے ہی ایک بہادر انسان کا انتظار ہے۔ لڑائی کے بغیر بھی جیت ہوتی ہے مگر لڑائی کے بغیر جیتنے کے لئے اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے۔ (الرسالہ اکتوبر ۸۸)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page