دیباچہ
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال الرساله جنوری ۲۰۰۰ میں ایک مضمون ”مستقبل کی قیادت“ کے عنوان سے ہے۔ اس میں آپ لکھتے ہیں کہ ”ملک کے upper cast (ہندو) کے پاس جو آئیڈیالوجی ہے اس میں اونچی ذات والوں کیلئے تو باعث جگہ ہے، مگر نیچی ذات اور غریب عوام کیلئے اس میں کوئی باعث جگہ نہیں‘ مگر مسلمانوں میں بھی اسی طرح کی تفریق و کمزوری ہے، وہ کس آئیڈیالوجی یا سسٹم کے تحت ہے؟۔ اس گمبھیر معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (انوار الحق، شیخ پورہ) جواب برادران وطن کے اندر اونچی ذات اور نیچی ذات کی جو تقسیم ہے وہ ان کے مذہبی عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہے، اس کو ورن آشرم کہا جاتا ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف خود ہندوؤں کے بڑے بڑے اہل علم نے کیا ہے، مثال کے طور پر دادا صاحب کا لیکر۔ اس کے برعکس مسلمانوں میں آج جو تفریق نظر آتی ہے وہ ایک عملی تفریق ہے۔ وہ مسلمانوں کے اپنے قومی تنزل کے سبب سے وجود میں آئی ہے۔ اس صورت حال کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے نہ کہ اسلام پر۔ مسلمانوں کی موجودہ تفریق کو مسلمانوں کی اصلاح کے ذریعہ ختم کیا جاسکتا ہے مگر برادران وطن کے درمیان جو تفریق ہے وہ اس وقت ختم ہوگی جب کہ خود ان کے مذہب میں ریفارم لایا جائے۔ سوال میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ آپ کی تحریروں کو پڑھ کر میرے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا ہے کہ میں دعوت کا کام کروں۔ میری آرزو ہے کہ اپنی ڈگری لینے کے بعد میں کسی جامعہ میں داخل ہو جاؤں جو اس دور کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہو اور لوگوں کو تذکیر و تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے کے قابل بناتا ہو۔ (محمد سعید، پاکستان) جواب دعوت کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کا جذبہ بے حد قیمتی ہے۔ مگر پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک میں تعلیم و تربیت کا کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو ایک آدمی کو داعی کامل بنائے۔ داعی خود اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader