دیباچہ
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
کوششوں سے بنتا ہے نہ کہ کسی ادارہ کی تعلیم و تربیت سے۔ پاکستان میں دعوتی کام کے عظیم مواقع موجود تھے مگر وہاں کے اسلام پسند رہنماؤں کی ایک غلط فکر نے سارے امکان کو تباہ کر دیا۔ وہ فکر یہ کہ اسلامی دعوت کا کام اس وقت ہوسکتا ہے جب کہ یہاں اسلامی حکومت قائم ہو جائے ۔ اس غلط سوچ نے پاکستان کی اسلامی تحریک کو عملاً سیاسی تخریب کے راستہ پر ڈال دیا۔ بہترین مواقع کے ہوتے ہوئے وہ کوئی مثبت دعوتی کام نہ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں کرنے کا اصل کام اسلامائزیشن آف مین تھا مگر ان لوگوں نے اسلامائزیشن آف اسٹیٹ کو اپنا نشانہ بنایا۔ یہ نہ صرف ایک غیر اسلامی نشانہ تھا بلکہ وہ اللہ کی ناقدری بھی تھی۔ موجودہ زمانہ میں پریس اور میڈیا اور کمیونی کیشن اور انٹرنٹ نے دعوت کے مواقع کو ہزاروں گنا زیادہ وسیع پیمانہ پر ہمارے لئے کھول دیا ہے۔ ایسے دور میں اسلام کے نام پر تخریبی سیاست چلانا صرف ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر میں یہ کہوں گا کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری ہے۔ اللہ نے کمیونی کیشن کے عالمی ذرائع کھول کر ہم کو یہ موقع دیا ہے کہ ہم نہایت تیز رفتاری کے ساتھ اسلام کے پیغام کو ساری دنیا تک پہنچا سکیں۔ پیغام رسانی کے اس کام میں آج کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کے نام پر تخریبی سیاست چلانا گویا اسلام کو ذنح کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی سیاست ایک ایسا جرم ہے جو اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یہ مواقع کو تباہ کرنا اور تخریبی نشانوں پر قوم کو دوڑانا ہے جس سے بڑا کوئی جرم نہیں ہو سکتا۔ آپ جیسے نوجوانوں کو میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے حالات کے اعتبار سے دعوت کا کام شروع کر دیں۔ آپ کا دعوتی کام ہی آپ کے لئے وہ تربیت گاہ بن جائے گا جہاں آپ کو فطری عمل کے دوران دعوتی تربیت ملتی رہے۔ دعوت ہمیشہ حقیقی تجربہ کے دوران سیکھی جاتی ہے نہ کہ کسی رسمی کورس کے ذریعہ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اتقواللہ ويعلمکم الله (البقرہ (۲۸۲) اس سے معلوم ہوتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader