دیباچہ
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ علم کا اصل سرچشمہ تقویٰ ہے۔ آدمی کا اخلاص اور اس کا خوفِ خدا، دیانت داری اور شفقت علی الخلق اور مسئولیت کا احساس، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کے لئے علم و آگہی کی سب سے بڑی ضمانت ہیں۔ تقویٰ کا تعلق علم سے یہ ہے کہ تقویٰ آدمی کے ذہن کو بیدار کرتا ہے۔ وہ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتا ہے۔ وہ انسان کو زیادہ گہرے غور و فکر کے قابل بنا دیتا ہے۔ سوال 1947 سے پہلے جب دلیش کا بٹوارہ نہیں ہوا تھا تو اس علاقہ کے بیشتر مسلمان یہ کہتے تھے کہ آزادی کے بعد جو اکھنڈ انڈیا بنے گا اس میں غیر مسلموں کی مجارٹی ہوگی۔ اس میں مسلمانوں کے لئے یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ اپنی پولیکل اور کلچرل پہچان کو باقی رکھتے ہوئے زندگی گزاریں۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کا ایک الگ مسلم لینڈ ہو۔ مگر جب یہ مسلم لینڈ بن گیا تو سین (scene) دوسرا تھا۔ اب یہاں کا حال یہ ہوا کہ جس کو موقع ملا وہ بھاگ بھاگ کر انہیں ملکوں میں پہنچ گیا جہاں ان کے نظریہ کے مطابق غیر مسلم غلبہ قائم تھا۔ چنانچہ آج بڑی تعداد میں مسلمان انہیں مغربی ملکوں میں جاکر آباد ہوگئے ہیں جہاں غیر مسلم تہذیب کا پوری طرح ڈامینیشن (domination) ہے۔ کیا یہ ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں؟ ۔ کیا اسلام ہم کو یہی سکھاتا ہے؟ ۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (عبدالرحمن ایم ۔ اے، ناندیر) جواب یہ ایک واقعہ ہے کہ 1947 سے پہلے چند مستثنیٰ شخصیتوں کو چھوڑ کر برصغیر ہند کے تقریباً تمام مسلمانوں کی سوچ یہی تھی۔ اس زمانہ میں جو لوگ یہ کہتے تھے کہ مذہب اور قومیت دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، مذہب کا تعلق عقیدہ سے ہے اور قومیت کا تعلق ہوم لینڈ سے ، ایسے لوگوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ ایسے افراد کا اس زمانہ میں مسلم سماج کے اندر عزت کے ساتھ رہنا سخت دشوار ہوگیا تھا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو میں نے نہ صرف پڑھا ہے بلکہ ذاتی طور پر اس کا تجربہ کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader