Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بھی ایک معلوم واقعہ ہے کہ جب ایک ہنگامہ خیز تحریک کے بعد ایک الگ مسلم لینڈ بن گیا تو یہی لوگ پہلے خود اس مسلم لینڈ میں اپنی مادی ترقی کی کوشش میں لگ گئے اور جب دیکھا کہ اس مسلم لینڈ میں زیادہ بڑی ترقی کے امکانات نہیں ہیں تو وہ بھاگ بھاگ کر ان ملکوں میں پہنچنے لگے جن کو مادی اعتبار سے ترقی یافتہ ملک (developed countries) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ آج انڈیا، پاکستان، بنگله دیش، حیدر آباد اور کشمیر کے ۰۱ ملین (ایک کروڑ) سے زیادہ مسلمان یہاں سے جا کر امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں چین اور سکون کے ساتھ رہ رہے ہیں بلکہ وہ زبان حال یا زبان قال سے اس پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا مادی مستقبل شاندار طور پر ان سیکولر ملکوں میں محفوظ کر لیا۔ یہ معاملہ بلا شبہ ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ۱۹۷ سے پہلے ان مسلمانوں نے اپنی علیحدہ تہذیبی شناخت کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ انہوں نے اس معاملہ میں یہاں کی غیر مسلم اکثریت سے کسی بھی مصالحت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ مولانا حسین احمد مدنی جو متحدہ قومیت کے قائل تھے، ان کو شیخ الاسلام کے بجائے شیخ الاصنام کہا گیا۔ اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد کو شو بوائے کا نام دیا گیا، وغیرہ۔ ان مسلمانوں نے یہاں ایسی دھواں دار تحریک چلائی کہ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں اور غیر مسلمانوں میں بہت بڑے پیمانہ پر نفرت اور کشیدگی کی فضا قائم ہوگئی۔ دونوں کے درمیان تعلقات کی اس تلخی نے اس پورے علاقہ میں دعوت کے مواقع کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ نیز یہ کہ اس نام نہاد اسلامی تحریک کے نتیجہ میں انڈیا کے تقریباً بیس کروڑ مسلمان مزید اضافہ کے ساتھ عین اسی خطرہ میں زیادہ شدت کے ساتھ پھنس کر رہ گئے جس خطرہ سے بچنے کا نام لے کر علیحدہ مسلم لینڈ کی تحریک چلائی گئی تھی۔ یہ بلا شبہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں تقریباً یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وہ تمام مسلمان ایک مجرمانہ فعل کے مرتکب ہوئے ہیں جنہوں نے علیحدہ تہذیبی شناخت کے نام پر یہ ہنگامہ کھڑا کیا تھا اور اب نہایت اطمینان کے ساتھ اسی قسم کی سیکولر تہذیب سے موافقت کر کے اس کے اندر پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page