Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے مطابق ، ایسے مسلمانوں کے لئے ان کی موجودہ پرسکون زندگی کا کوئی مبرر (justification) موجود نہیں۔ ان لوگوں کے لئے جائز طور پر صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے ۔ یا تو وہ دوبارہ اپنے حاصل کردہ ’’مسلم لینڈ‘‘ میں واپس جائیں اور وہاں کی سختیوں اور تلخیوں کو برداشت کرتے ہوئے وہاں زندگی گزاریں ۔ ان کے لئے دوسرا ممکن انتخاب یہ ہے کہ وہ کھلے طور پر اعلان کریں کہ ان کا سابقہ نظریہ غلط تھا۔ ایک مسلمان سیکولر لینڈ میں بھی اسی طرح جائز طور پر رہ سکتا ہے جس طرح مسلم لینڈ میں۔ ان مسلمانوں کی موجودہ حالت گویا تیسرا انتخاب (third option) ہے۔ اور اس معاملہ میں تیسرا انتخاب بلاشبہ کوئی انتخاب نہیں۔ یہ اسی دوہرامیار کی مثال ہے جس کو حدیث میں ’’الذی يأتى هؤلاء بوجه و هؤلاء بوجه (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب ماقيل فی ذی الوجھین) کہا گیا ہے ، اس قسم کی دہراروش اسلام میں اتنی زیادہ مبغوض ہے کہ اندیشہ ہے کہ اس کے ساتھ ’’نماز اور روزہ‘‘ بھی غیر معتبر ہو جائے۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اس مجرمانہ فعل کے ذمہ دار صرف وہ لوگ نہیں ہیں جو براہ راست طور پر اس تحریک کے علم بردار بنے ہوئے تھے بلکہ وہ لوگ بھی یقینی طور پر اس میں شریک قرار دئے جائیں گے جنہوں نے اس کے خلاف آواز بلند نہیں کی یا اب وہ کھلے طور پر اس نظریہ کی غلطی کا اعتراف نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے موقع پر کسی کا خاموش رہنا ہمیشہ بالواسطہ تائید کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس مسلمہ اصول کے مطابق ، مذکورہ جرم میں اگر کچھ لوگ براہ راست طور پر شریک ہیں تو دوسرے لوگ بالواسطہ طور پر شریک ۔ اس جرم عام میں مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جو کھلے طور پر اس کی غلطی کا اعلان کریں اور اس کی پرواہ نہ کریں کہ اس اعلان کا نتیجہ انہیں اپنے قوموں کی طرف سے سخت ردعمل (backlash) کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page