Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال میں فلسفہ کا طالب علم ہوں اور اکثر وبیشتر شکوک وشبہات سے دوچار رہتا ہوں ۔ فلسفہ کی طرف میرا طبعی میلان ہے۔ ایک قسم کے شکوک رفع ہوتے ہی دوسرے قسم کے شکوک مجھے آ گھیر تے ہیں ۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے کیا فلسفہ کا مطالعہ ترک کرنا ہوگا ؟ ۔ اکثر لوگوں کا مجھے یہ مشورہ ہے کہ فلسفہ کوئی عملی چیز نہیں ، فکری چیز ہے اور فکری پیچید گیوں میں پڑ نا اپنا وقت برباد کرنا ہے۔ اسطرح کی باتوں سے ذہن سازی نہیں ہوتی بلکہ ایمان ویقین کی دولت سے بھی ہاتھ دھونا پڑ تا ہے۔ (طارق اشفاق ، اے ۔ ایم ۔ یو، علی گڑھ) جواب اس سوال کا جواب کچھ ممتاز فلسفیوں نے خود ہی کامیاب طور پر دے دیا ہے۔ مثال کے طور پر برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل نے ۔ آپ اس کی کتاب علم انسانی (Human Knowledge) کو گہری نظر سے پڑھیں تو آپ اس میں اپنے سوال کا جواب پالیں گے ۔ اصل یہ ہے کہ فلسفہ کم از کم ۵ ہزار سال سے حقیقت کی تلاش میں سرگرم رہا ہے مگر اس کو کبھی حقیقت کی دریافت نہ ہوسکی ۔ اس کے برعکس سائنس کو موجودہ زمانہ میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کا راز یہ ہے کہ فلسفہ علم کلی تک پہنچنا چاہتا تھا جو موجودہ دنیا میں ممکن ہی نہ تھا۔ سائنس نے اسی حقیقت کو دریافت کر کے علم جزئی پر قناعت کر لی اس لئے وہ کامیاب ہوگئی ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایکسرسے مشین کے سامنے ایک آدمی کو کھڑا کر کے جب مشین کی سوئچ دبائی جاتی ہے تو فوراً ایک پلیٹ پر آدمی کی داخلی تصویر آجاتی ہے ۔ اب فلسفی یہ جاننا چاہے گا کہ ایسا واقعہ کیوں کر ہوا ۔ چونکہ انسان کی اپنی محدودیتوں (limitations) کی بنا پر اس علم تک پہنچنا ممکن نہیں اس لئے فلسفی ابدی طور پر اس میں الجھ کر رہ جائے گا ۔ اس کے حصہ میں آخر کار کنفیوزن کے سوا اور کچھ نہ آئے گا ۔ اس کے برعکس سائنس نے یہ کیا کہ " کیوں " کے سوال کو الگ کر کے " کیا ہے " کو لے لیا ۔ اس طرح وہ اس میں کامیاب ہوگئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page