دیباچہ
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ انسانی تمدن کو ایک قیمتی تحفہ دے سکے۔ اس معاملہ میں حقیقت پسندی کی بات یہ ہے کہ آدمی اجمالی علم پر اکتفا کرے۔ وہ جزئی علم پر راضی ہو جائے اور کلی علم کے پیچھے بے فائدہ طور پر نہ دوڑے۔ قرآن میں اسی حقیقت کو ایک سوال کے جواب میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تم کو اس دنیا میں صرف علم قلیل دیا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل) اس مضمون کی تفصیل کے لئے راقم الحروف کی کتاب ’’مذہب اور سائنس‘‘ کا مطالعہ کریں۔ سوال ایک حدیث اس طرح ہے کہ ’’حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے خدا کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک دنیا ختم نہ ہوگی جب تک لوگوں پر ایسا دن نہ آئے گا کہ قاتل کو یہ علم نہ ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا اور مقتول یہ نہ جانے گا کہ میں کیوں قتل ہوا۔ کسی نے عرض کیا کہ ایسا کیوں ہوگا ۔ ارشاد فرمایا کہ فتنوں کی وجہ سے قتل بہت بڑھ جائے گا۔ پھر ارشاد فرمایا ان فتنوں میں قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘ اس حدیث میں قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں کے جہنم میں داخل ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ قتل کرنے والا جہنم میں جائے گا یہ تو سمجھ میں آتا ہے لیکن قتل ہونے والا جہنم میں جائے گا یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ حدیث کا اصل مفہوم کیا ہے؟۔ براہ کرم مطلع فرمائیں۔ (خورشید احمد، شوپیاں) جواب اس اشکال کا جواب خود حدیث میں موجود ہے ۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کو سننے کے بعد صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول قاتل کا جہنم میں جانا تو معلوم ہے مگر مقتول جہنم میں کیوں جائے گا؟۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا : کل واحد منهما يريد قتل صاحبه (النسائی، تحریم القتل) یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ قتل کا ایک واقعہ وہ ہے جب کہ قاتل یک طرفہ طور پر مجرم ہو اور مقتول یک طرفہ طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader