Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

بے قصور ۔ مگر جب بگاڑ بڑھ جائے تو معاملہ یک طرفہ (unilateral) نہیں رہتا بلکہ دو طرفہ (bilateral) ہو جاتا ہے ۔ یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے دونوں یکساں طور پر سرکش ہوتے ہیں اور صرف یہ اتفاق کی بات ہوتی ہے کہ اس دو طرفہ سرکشی کے دوران ایک شخص مارا گیا اور ایک شخص بچ گیا ۔ اس دوسری صورت میں ظاہر ہے کہ دونوں ہی اللہ کے نزدیک مجرم قرار پائیں گے ۔ کیوں کہ اسلام کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ عمل کا دارو مدار نیت پر ہے (انما الاعمال بالنيات) ۔ سوال قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین سے واپسی پر نبوت عطا کی گئی ۔ لیکن اس وقت ان کو تورات نہیں دی گئی ۔ فرعون اور اس کی قوم کے دریائے قلزم میں غرق ہونے کے بعد کوہ طور پر چالیس روز کا اعتکاف کرنے کے بعد ان کو تورات دی گئی ۔ اس کی صراحت قرآن میں کئی مقام پر آئی ہے ۔ ایک جگہ ارشاد ہوا ہے اور ہم نے اگلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لئے بصیرت ، ہدایت اور رحمت تھی تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔ (القصص ۴۳) اس آیت کے "القرون الاولیٰ" کے فقرے کے بارے میں ایک تفسیر یہ آئی ہے : یعنی اگلی قوموں سے مراد قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود وغیرہ ہیں ۔ اور کہا جاتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عطا کی گئی ۔ (زهدة التفسير من فتح القدير ، للامام الشو کانی ۵۱۲) نزول تورات سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت و دعوت کے اولین مخاطب فرعون اور اس کی قبطی قوم تھی ۔ اس دعوت کے دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کو کس قسم کی تعلیمات بتاتے تھے اور ان کا ذریعہ کیا تھا ۔ قرآن سے اس کی صراحت نہیں ملتی ۔ کیوں کہ تورات ان کی ہلاکت کے بعد نازل ہوئی ۔ کہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام وہی چیز ان کے سامنے پیش تو نہیں کرتے تھے جسے ہم شریعت اسلامی میں سنت یا وحی غیر متلو کہتے ہیں ؟ میری اس الجھن کو دور فرمائیں ۔ (غلام نبی ، سری نگر)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page