دیباچہ
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ وہی ہے جو دوسرے تمام پیغمبروں کا معاملہ تھا۔ مصر میں وہ ابھی دورِ دعوت میں تھے اور دورِ دعوت میں ہر پیغمبر اپنی قوم کو صرف توحید کا پیغام پیش کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ نے بھی فرعون اور قوم فرعون کے سامنے توحید کا پیغام پیش کیا۔ جہاں تک تو رات کا تعلق ہے ۔ وہ احکام کا مجموعہ ہے۔ اس طرح کے احکام ہمیشہ اس وقت اترتے ہیں جب کہ اس کے موافق معاشرہ بن چکا ہو۔ بنی اسرائیل جو اس وقت کے اہل ایمان تھے ، جب وہ صحراءِ سینا میں آباد ہوئے اس وقت وہاں ان کا معاشرہ قائم ہو گیا ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کے مشن کے اس دوسرے مرحلہ میں تو رات کی صورت میں شرعی احکام انہیں دے دئے گئے ۔ یہی معاملہ خود پیغمبر اسلام صلی علیہ وسلم کے ساتھ بھی پیش آیا۔ مکہ میں آپ مرحلہ دعوت میں تھے۔ چنانچہ اس وقت آپ مکہ کے مشرکین کو تو حید کا پیغام دیتے رہے ۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں جب اہل ایمان کا معاشرہ قائم ہو گیا ، اس وقت آپ پر احکام نازل کئے گئے ۔ سوال کچھ لوگ کہتے ہیں کہ : دنیا بقدر مقدر اور دین بقدر مشقت ۔ اس معاملہ کی حقیقت کیا ہے ؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں (پروویز اختر صدیقی ۔ مہادیو روڈ، آگرہ) جواب اس معاملہ میں صحیح بات یہ ہے کہ دنیا بقدر امتحان اور دین بقدر اخلاص ۔ وہ تمام چیزیں جن کو دنیا کہا جاتا ہے وہ سب امتحان کا پر چہ ہیں، مثلاً مال ، اولاد، شہرت ، مقبولیت، عہدہ اور اقتدار۔ اللہ کو جس چیز میں جس آدمی کا امتحان لینا منظور ہوتا ہے وہ چیز اس کو دے دی جاتی ہے۔ دنیا کی محرومی نہ تو سزا کے لئے ہے اور نہ دنیا کی فراوانی انعام کے لئے ۔ دونوں ہی یکساں طور پر امتحان کے لئے ہیں۔ جہاں تک دین کا معاملہ ہے وہ تمام تر اخلاص پر مبنی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ دین کوئی نقشہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader