Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

محنت ہے اور اس نقشہ کے مطابق جو آدمی پریکٹس کرے اس کو پریکٹس کرتے کرتے دین مل جائے گا۔ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ کی نظر آدمی کے اندرونی اخلاص پر ہوتی ہے۔ جس آدمی کے اندر جتنا اخلاص ہوتا ہے اسی کے بقدر وہ اللہ کی توفیق سے دین میں ترقی کرتا رہتا ہے۔ گویا کہ اس معاملہ میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ دنیا بقدر امتحان اور دین بقدر اخلاص۔ سوال باتیں دو طرح کی ہوتی ہیں یا مسائل، نظریات دو طرح کے ہوتے ہیں: (۱) منصوصات (۲) مستنبطات اول الذکر میں کسی کو اختلاف کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ البتہ مستنبطات، یا مستخرجات میں دائرہ اختلاف وسیع تر ہوتا ہے۔ سلف صالحین، ائمہ مجتہدین، محدثین تقریبا سبھوں نے اپنے فکر پر دلائل کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اپنے مخالف کے بارے میں اسطرح اعلان کیا ہے: نحن علی الصواب مع احتمال الخطاء، انتم علی الخطأ مع احتمال الصواب اور یہ کہ غیر منصوصات پر اصرار کی ایک جانب غیر شرعی چیز ہونے پر فقہاء امت کا تقریباً اتفاق ہے۔ ہر صاحب فکر جسے اللہ نے فکر مستقل سے نوازا ہو۔ اسے یہ اعلان کر دینا چاہئے کہ انا علی الصواب مع احتمال الخطأ، انت علی الخطأمع احتمال الصواب۔ اختیار حق اور احقاق کیلئے راستہ صاف ہے۔ (سید احمد اللہ بختیاری، حیدر آباد) جواب راقم الحروف کی تحریریں زیادہ تر منصوصات سے متعلق ہوتی ہیں نہ کہ مستنبطات سے متعلق۔ ایسی حالت میں ان تحریروں پر مذکورہ قسم کے احتمال کا اصول چسپاں نہیں ہوتا۔ مثلاً میں یہ کہتا ہوں مسلمان کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلموں کی حیثیت مدعو کی۔ یہ یقینی طور پر نصي کا مسئلہ ہے نہ کہ استنباط کا مسئلہ۔ موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم رہنما اور مسلم اخبارات ملی مسائل کو لیکر بار بار ایسی باتیں کرتے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page