Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔ اسکے مقابلہ میں راقم الحروف کا کہنا یہ ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ اس نسبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے معاملات میں غیر مسلموں سے نزاع کو اوائڈ کریں تا کہ وہ معتدل ماحول قائم ہو جس میں دعوت کا پر امن عمل جاری رہ سکے۔ یہ نظریہ صراحتہً نص قرآنی پر مبنی ہے۔ مثلاً فلا ینازعنک فی الا مر وادع الى ربک (الحج ۶۷)۔ ایسی حالت میں اس مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ: رأیی صواب يحتمل الخطاء ورأى غيرى خطأ يحتمل الصواب ۔ یہی ہمیشہ خود علماء امت کا موقف رہا ہے۔ وہ مذکورہ قسم کے جملے صرف مستنبطات کے بیان میں لکھتے ہیں نہ کہ منصوصات کے بیان میں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام میں نماز پانچ وقت کی نہیں ہے بلکہ صرف دو وقت یا تین وقت کی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جب علماء صالحین اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے مضمون کے آخر میں لکھیں کہ: نحن علی الصواب مع احتمال الخطأ وانتم علی الخطأ مع احتمال الصواب ۔ البتہ کچھ دوسرے قسم کے مسائل جنگی بنیادی نص پر نہیں ہے بلکہ استنباط پر ہے، ان کے بیان میں علماء مذکورہ قسم کا اعتراف درج کرتے ہیں۔ مثلاً علماء کا ایک طبقہ اگر اصرار کرے کہ جراب پر مسح کی اجازت صرف اس جراب کیلئے ہے جو قدیم طریقہ کے مطابق چمڑے سے بنایا گیا ہو۔ اب دوسرا عالم اگر یہ کہے کہ صنعتی ریشوں سے بنے ہوئے جدید طرز کے موزوں کا بھی وہی حکم ہے اور ان پر بھی مسح جائز ہے، تو اپنے اس بیان کے ساتھ بطور احتیاط وہ مذکورہ قسم کے احتمالی الفاظ لکھ سکتا ہے، کیونکہ یہ دوسری قسم کا بیان استنباط پر مبنی ہے نہ کہ براہِ راست نص پر۔ میں ایسے موقع پرً غالباً‘‘ جیسا کوئی لفظ استعمال کرتا ہوں۔ میری تحریروں کا دوسرا جزء وہ ہے جس کا تعلق جدید حالات کی نسبت سے تدبیر کار پر ہے۔ مثلاً پر تشدد جدوجہد کے مقابلہ میں پر امن جدوجہد۔ جلسہ جلوس کے طریقہ کے بجائے گفت و شنید کا طریقہ،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page