Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلافی معاملات میں محاذ آرائی کے بجائے حکیمانہ انداز، خارجی اقدام سے پہلے داخلی تیاری وغیرہ۔ یہ دوسری باتیں بھی اپنی اصل کے اعتبار سے منصوصات پر مبنی ہیں ۔ البتہ چونکہ ان کا تعلق خارجی حالات سے ہے اور خارجی حالات بدلتے رہتے ہیں ۔ اس لئے ان باتوں پر انطباق (application)کے اعتبار سے، ایک سے زیادہ رائیں ہو سکتی ہیں ۔ اس پہلو سے ایک شخص یہ حق اختلاف رکھتا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ یہ بتائے کہ حالات کی نوعیت اس کے نزدیک اس سے مختلف ہے جو میں نے اپنے مطالعہ سے سمجھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں خود سنت رسول میں مختلف نمونے پائے جاتے ہیں ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے جن مشرکین سے جنگ کی انہی مشرکین سے حدیبیہ کے موقع پر آپ نے صلح کر لی۔ اسی طرح آپ نے احد کے موقع پر مدینہ سے تین میل باہر جا کر مخالفین سے مقابلہ کیا اور احزاب کے موقع پر انہیں مخالفین سے مدینہ کے اندر رہ کر دفاع کیا، وغیرہ۔ اس لئے شریعت کا یہ متفقہ اصول ہے کہ : تتغیر الا حکام بتغیر الزمان والمكان۔ تدبیر کار سے متعلق میری جو تحریریں ہیں وہ اسی آخری نوعیت سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ان تحریروں میں مسلمانوں کو جو مشورہ دیا جاتا ہے اس کے رد و قبول کی بنیاد یہ ہے کہ حالات کا بے لاگ مطالعہ کر کے ان کی حقیقی نوعیت کو سمجھا جائے اور پھر یہ دیکھا جائے کہ قرآن وسنت کے کون سے احکام ان حالات پر منطبق ہوتے ہیں ۔ اس معاملہ میں اگر کسی کو مجھ سے اختلاف ہو تو اس کو الزام تراشی اور بہتان طرازی کے بجائے دلائل اور تجزیہ کی زبان میں بتانا چاہئے کہ میری نقطہ نظر کے بجائے دوسرا نقطہ نظر قرآن وسنت سے کیوں اس کے نزدیک زیادہ قریب ہے۔ سوال تبلیغی جماعت کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ ۔ وہ ہر جگہ مقبول ہورہی ہے۔ اس کی اس مقبولیت کا راز کیا ہے؟ ۔ (عمر فاروق، نیویارک، بذریعہ ٹیلی فون)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page