Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

معاملہ میں یہی ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے۔ ان آیتوں کی بنیاد پر آپ اسلام کے بارے میں جو شدید رائے قائم کی ہے، وہ سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آپ نے قرآن کی مذکورہ آیتوں کو عمومی معنوں میں لے لیا ہے۔ حالانکہ یہ آیتیں ہنگامی حالات کے لئے ہیں۔ یہ اس وقت کے لئے ہیں جب کہ مسلمانوں اور دوسری قوم کے درمیان حالت جنگ (state of war) قائم ہوگئی ہو اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ حالت جنگ میں ہمیشہ ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ جہاں تک نارمل حالات میں لوگوں کے ساتھ مسلمان کے سلوک کا تعلق ہے وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے جو قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ ان دوسری آیتوں میں مسلمانوں کو لوگوں کے درمیان مرحمت کے ساتھ رہنے کا حکم دیا گیا ہے(البلد۱۷) اسی طرح حکم ہے کہ لوگوں کے ساتھ عدل کا سلوک کرو(المائدہ ۴۲) اسی طرح فرمایا کہ لین دین میں ترازو کی طرح برابری کا معاملہ کرو(الرحمن ۹) وغیرہ وغیرہ۔ جہاں تک غیر مسلموں سے تعلق کا معاملہ ہے، قرآن میں اس کی بابت ایک بنیادی اصول مقرر کر دیا گیا ہے۔ جس سے انحراف مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔ وہ یہ ہے: فما استقامو الکم فاستقيمو الہم ان الله يحب المتقين (التوبہ ۸) یعنی جب تک وہ تمہارے ساتھ مستقیم رہیں تم بھی ان کے ساتھ مستقیم رہو اور اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔ بین اقوامی معاملات میں یہی مساویانہ اصول ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے اور اسلامی شریعت میں بھی مساویانہ سلوک ہی کے اصول کو اختیار کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ قرآن بیک وقت ایک واحد کتاب کی صورت میں نہیں اترا، بلکہ وہ حالات کے اعتبار سے ۲۳ سال کے دوران اترا۔ ۲۳ سال کی اس مدت کو عمومی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک ۲۰ سال، دوسرے ۳ سال۔ ۲۳ سالہ مدت نزول میں ۲۰ سال گویا امن کے سال تھے اور تقریباً ۳ سال جنگی حالات کے سال۔ آپ نے جن ۲۴ آیتوں کا حوالہ دیا ہے وہ مذکورہ تقسیم کے مطابق ۳ سال حالات میں اتریں۔ قرآن کی دوسری آیتیں ۲۰ سال والی مدت میں اتریں اور وہ سب کی سب امن اور انصاف اور انسانیت جیسی مثبت تعلیمات پر مشتمل ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page