دیباچہ
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
مکتوب نگار نے دوسری بات جو لکھی ہے وہ حدیث پر مبنی ہے۔ انہوں نے صحیح مسلم کے انگریزی ترجمے کے کئی صفحات بھیجے ہیں۔ ان میں ایک حدیث وہ ہے جو صحیح مسلم (کتاب الایمان ، کتاب الزکاۃ) میں آئی ہے۔ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں: من مات لا یشرک بالله شیئـا دخل الجنة فقلت یا جبریل و ان سرق و ان زلی .... قال نعم وان شرب الخمر (جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ میں نے جبر یل سے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ، اگر چہ اس نے زنا کیا ..... انہوں نے کہا کہ ہاں ، اگر چہ اس نے شراب پیا) اس حدیث کے بارے میں مکتوب نگار کی منفی رائے بھی صرف غلط فہمی پر مبنی ہے۔ انہوں نے غالباً اس کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ مومن خواہ عادۃ چوری کرتا رہے، زنا کرتا رہے، شراب پیتا رہے، پھر بھی وہ جنت میں جائے گا۔ حالانکہ حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ حدیث کا یہ مفہوم لینا اس وقت ہوتا جب کہ اس میں یسرق اور یشرب کے الفاظ ہوتے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بجائے حدیث میں وان سرق وان زنی شرب کے الفاظ ہیں۔ یعنی حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک شخص اگر استمراری طور پر سرقہ زنا اور شراب نوشی جیسے افعال میں مبتلا ہو تب بھی وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ بلکہ حدیث میں ماضی کا صیغہ ہے۔ یعنی ماضی میں یا اتفاقاً اس سے یہ افعال ہو گئے تھے، پھر اس نے توبہ کر کے پاکیزہ زندگی اختیار کر لی تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس حدیث میں فعل اتفاقی کا ذکر ہے نہ کہ فعل جاری کا۔ اس حدیث میں عین وہی بات کہی گئی ہے جو صحیح مسلم اور دوسری کتابوں میں مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دور اول میں جن لوگوں نے رسول اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا ان میں کئی لوگ ایسے تھے جن سے ماضی میں ایسے افعال سرزد ہوئے تھے جو شریعت اسلامی کے خلاف تھے۔ ان کو اپنی ماضی کی اس غلطی کا شدید احساس ہوتا تھا۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ آپ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام پچھلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader