ابتدائی حالات
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
معزز مانا جاتا تھا۔ اس خاندان میں بڑے بڑے شخصیت کے لوگ پیدا ہوئے، مثلاً عدنان، نضر، فہر، قصی بن کلاب، وغیرہ۔ قصی اپنے زمانہ میں حرم کعبہ کے متولی بنائے گئے۔ اس کی وجہ سے ان کی عظمت میں بہت اضافہ ہوا۔ قصی نے بہت بڑے بڑے کام کئے۔ قصی سے پہلے قریش کے خاندان مختلف مقامات پر منتشر تھے۔ قصی نے ان سب کو مکہ میں کعبہ کے اطراف میں جمع کیا۔ ان کے لیے گھر بنائے اور ان کو منظم کر کے ایک چھوٹی سی ریاست قائم کی ۔ اس طرح قریش کو حجاز میں سیاسی اہمیت حاصل ہو گئی۔ یہاں سے ان کا تاریخی دور شروع ہوتا ہے۔ خانۂ کعبہ سارے عرب کا مرکز تھا۔ حج کے موقع پر ہزاروں آدمی یہاں زیارت کے لیے آتے تھے۔ قصی سے پہلے یہاں ان کی میزبانی کا کوئی معقول انتظام نہ تھا۔ قصی نے کہا کہ ان حاجیوں کی میزبانی ہمارا فرض ہے اور اس کام کے لیے انہوں نے باقاعدہ ایک رقم مقرر کی۔ اس رقم سے حاجیوں کے کھانے اور پانی کا انتظام کیا جاتا تھا۔ یہ کام ان کے بعد ان کے خاندان کے خاندان والے کرتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ حرم کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے قریش کو تمام عرب میں بڑی عزت اور اہمیت حاصل ہو گئی تھی۔ عرب میں عام طور پر لوٹ مار کا رواج تھا۔ اس کی وجہ سے راستے محفوظ نہ تھے لیکن قریش چونکہ کعبہ کے متولی تھے اور حاجیوں کی خدمت کرتے اس لیے ان کے قافلہ کو کوئی نہیں لوٹتا تھا اور وہ امن کے ساتھ تجارت کے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے تھے۔ عبد المطلب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے، انہوں نے کعبہ کی تولیت کے زمانہ میں بہت کام کئے ۔ سب سے بڑا کام انہوں نے یہ کیا کہ زمزم کا کنواں جو پٹ کر گم ہو گیا تھا اس کو بڑی محنت سے صاف کرایا۔ اس کی وجہ سے ان کی عزت و شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔ عبد المطلب کے دس لڑکے تھے جن میں سے پانچ بہت مشہور ہوئے۔ ایک عبد اللہ جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader