Urdu book · سیرتِ رسول

ابتدائی حالات

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ کے والد تھے۔ دوسرے ابو طالب جو اگر چہ اسلام نہیں لائے مگر انہوں نے ایک عرصہ تک آپ کی سر پرستی کی۔ تیسرے حضرت حمزہ اور چوتھے حضرت عباس۔ آپ کے ان دونوں چچانے اسلام قبول کیا۔ پانچویں ابو لہب، ابو لہب اپنے اسلام دشمنی کے لیے بہت مشہور ہوا۔ عبد المطلب کے بیٹے عبد اللہ ہر اعتبار سے عرب اوصاف کا نمونہ تھے۔ عبد اللہ کا نکاح آمنہ بنت وہب سے ہوا جو قبیلہ زہرہ کے رئیس وہب بن عبد مناف کی لڑ کی تھیں ۔ وہ قریش کی عورتوں میں عزت اور نسب کے اعتبار سے نہایت شریف خاتون شمار کی جاتی تھیں۔ انہی عبد اللہ اور آمنہ سے محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب پیدا ہوئے جو اعلیٰ ترین انسانی اوصاف کا مکمل نمونہ تھے۔ آپ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد عبد اللہ کا انتقال ہو گیا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ربیع الاول کے مہینہ میں 22 اپریل 571 ء کو ہوئی ۔ آپ کی پیدائش کی اطلاع آپ کے دادا عبد المطلب کو ملی تو وہ آپ کو لے کر کعبہ میں گئے۔ وہاں انہوں نے نومولود بچے کے لیے دعا مانگی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ آپ کی پیدائش کے ساتویں دن عبد المطلب نے آپ کا عقیقہ کیا اور آپ کا نام محمد رکھا۔ عقیقہ کی اس تقریب میں قبیلہ قریش کے تمام لوگ شریک ہوئے۔ محمد کا نام عرب میں بالکل نیا تھا۔ قریش نے اس غیر مانوس نام رکھنے کا سبب پوچھا تو عبد المطلب نے کہا: تا کہ ساری دنیا میں میرے بیٹے کی تعریف کی جائے۔ عرب کے اونچے گھرانوں میں یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنے بچہ کو دودھ پلانے کے لیے کسی صحرائی خاتون کے حوالے کر دیتے تھے تاکہ بچے کی ابتدائی پرورش کھلی فضا میں ہو سکے اور وہ فصیح عربی زبان بھی سیکھ جائے ۔ بدوؤں ، جو کہ دیہات و قبصات میں رہتے تھے، ان کی زبان نہایت فصیح ہوتی تھی۔ اس رواج کے مطابق، آپ کو قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک عورت حلیمہ بنت ابی ذویب کے حوالے کر دیا گیا۔ یہی وہ خاتون ہیں جو حلیمہ سعدیہ کے نام سے مشہور ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page