Urdu book · سیرتِ رسول

مسجد کی تعمیر

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

گئیں۔ سب سے پہلے کچی اینٹیں تیار کی گئیں۔ اس کام میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ آپ خود بھی شریک ہوگئے۔ جب مسجد کی دیوار بننے لگی تو آپ خود بھی اینٹیں اٹھا کر لاتے اور معماروں کی مدد کرتے۔ آپ کو کام کرتے دیکھ کر مسلمانوں نے یہ شعر کہا: لَئِنْ قَعَدْنَا وَالنَّبِيُّ يَعْمَلُ لَذَاكَ مِنَّا الْعَمَلُ الْمُضَلِّلُ اگر ہم بیٹھ جائیں جب کہ نبی کام کر رہے ہیں تو ہمارا ایسا کرنا بہت برا کام ہوگا (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 148)۔ ایک صحابی کا نام طلق بن علی تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ذمہ یہ کام سپرد کیا کہ میں مٹی میں پلانی ملا کر گارا بناؤں۔ میں پھاوڑا لے کر گارا بنانے کا کام کرنے لگا۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا میں بھی اینٹ اٹھا کر لانے کا کام کروں۔ آپ نے کہا کہ نہیں تم گارا بناؤ، تم اس کام کو خوب جانتے ہو۔ مدینہ کی یہ مسجد جو پیغمبر نے اور آپ کے اصحاب نے بنائی، وہ بالکل سادہ تھی۔ اس میں کچی اینٹوں کی نا ہموار دیواریں تھیں۔ کھجور کے تنوں سے اس کے ستون بنائے گئے تھے۔ کھجور کی شاخوں اور پتیوں کی چھت تھی۔ بعد میں چھت کو گارے سے لیپ دیا گیا تھا۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ یہ ابتدائی مسجد تقریباً ایک سو گز لمبی اور تقریباً ایک سو گز چوڑی تھی۔ اس میں تین دروازے بنائے گئے تھے۔ روایات میں ہے کہ اس مسجد کو آپ نے دو مرتبہ بنایا۔ پہلی بار اس وقت جب آپ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ اور دوسری بار فتح خیبر کے بعد 7ھ میں۔ تعمیر ثانی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اس وقت وہ بوسیدہ ہوگئی تھی۔ تعمیر ثانی کے وقت مسجد میں توسیع بھی کی گئی۔ دوسری تعمیر کے بارے میں ایک واقعہ یہ ہے کہ مسلمان اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ اسی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page