Urdu book · سیرتِ رسول

مسجد کی تعمیر

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

بنیاد رکھی ۔ آپ خود اپنے ہاتھ سے ایک پتھر اٹھا کر لائے اور وہاں رکھا ۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ نے پتھر لانا شروع کیا ۔ اس طرح مسجد کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔ یہی وہ مسجد ہے جس کی بابت قرآن میں کہا گیا ہے کہ : جس مسجد کی بنیاد اول دن تقویٰ پر رکھی گئی ہے وہ البتہ اس لائق ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو ۔ اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں ۔ اور اللہ بھی پاک رہنے کو پسند کرتا ہے (9:108) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء میں چار دن ٹھہرے ۔ مدینہ کے مسلمانوں نے آپ کی آمد کی خبر سنی تو وہ آ کر یہاں آپ سے ملاقات کرنے لگے ۔ جمعہ کے روز آپ یہاں سے آگے کے لیے روانہ ہوئے ۔ جمعہ کی نماز آپ نے بنو سالم بن عوف کی مسجد میں پڑھی ۔ آپ قباء سے چل کر مدینہ میں داخل ہوئے ۔ آپ کا اونٹ چلتا رہا ، یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر بیٹھ گیا ۔ اس وقت تک مدینہ میں کوئی باقاعدہ مسجد نہ تھی ۔ آپ نے اسی مقام پر مسجد بنانے کا فیصلہ کیا ۔ آپ نے پوچھا کہ یہ زمین کس کی ہے ۔ بتایا گیا کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جن کا نام سہل اور سہیل ہے ۔ اس وقت یہ جگہ مربد کے طور پر استعمال ہوتی تھی ۔ یعنی کھجور کو پھیلا کر سکھایا جاتا تھا ۔ آپ نے دونوں لڑکوں سے کہا کہ اگر تم اس زمین کو ہمارے ہاتھ فروخت کر دو تو ہم یہاں مسجد تعمیر کریں گے ۔ لڑکوں نے کہا کہ ہم یہ جگہ کسی معاوضہ کے بغیر آپ کو دیتے ہیں ۔ اللہ سے جو قیمت ملے گی وہ ہمارے لیے کافی ہے ۔ مگر آپ نے ان کی اس پیش کش کو قبول نہیں کیا ۔ اور قیمت دے کر اس کو ان سے خریدا ۔ ایک روایت کے مطابق ، حضرت ابو بکر نے دس دینار آپ کی طرف سے ادا کیے ۔ اس وقت یہاں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں ۔ آپ نے درختوں کو کٹوا یا اور قبروں کو ہموار کرنے کا حکم دیا ۔ جب زمین صاف اور ہموار ہو گئی تو مسجد کی بنیادیں کھودی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page