Urdu book · سیرتِ رسول

معاہدہ مدینہ

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

ایمان لائے۔ مگر ان کی اکثریت آپ کی اور آپ کے دین کی دشمن بن گئی۔ یہود کا خیال تھا کہ پیغمبر صرف بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل کی نسل سے تھے، اس لیے آپ کے پیغمبر ہونے پر وہ یقین نہ لا سکے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو کم از کم ایسا ہو کہ ان کے شر سے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس مقصد کے تحت آپ نے ان سے ایک معاہدہ کیا جس کو صحیفہ مدینہ کہا جاتا ہے۔ مدینہ کے یہود سے یہ معاہدہ ہجرت کے پانچ مہینہ بعد کیا گیا۔ یہ معاہدہ دین اور مال اور باہمی مسائل وغیرہ سے متعلق تھا۔ اس کا خلاصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ تحریری عہد ہے محمد نبی امی کی طرف سے مسلمانوں قریش و یثرب اور یہود کے درمیان جو مسلمان کے تابع ہوں اور ان کے ساتھ الحاق چاہیں۔ ہر فریق اپنے اپنے مذہب پر قائم رہ کر ان امور کا پابند ہوگا: 1۔ قصاص اور خون بہا کے جو طریقے قدیم زمانہ سے چلے آرہے ہیں وہ عدل اور انصاف کے ساتھ بدستور قائم رہیں گے۔ 2۔ ہر گروہ کو عدل اور انصاف کے ساتھ اپنی جماعت کا فدیہ دینا ہوگا۔ یعنی جس قبیلہ کا جو قیدی ہوگا اس قیدی کے چھڑانے کے لیے زر فدیہ کا دینا اسی قبیلہ کے ذمہ ہوگا۔ 3۔ ظلم اور اثم اور سرکشی کے مقابلہ میں سب متفق رہیں گے۔ اس بارے میں کسی کی رعایت نہ کی جائے گی۔ اگر چہ وہ کسی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ 4۔ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کسی کافر کے مقابلہ میں قتل کرنے کا مجاز نہ ہوگا اور نہ کسی مسلمان کے مقابلہ میں کسی کافر کی کسی قسم کی مدد کی اجازت ہوگی۔ 5۔ جو یہود مسلمانوں کے تابع ہو کر رہیں گے ان کی حفاظت مسلمانوں کے ذمہ ہوگی۔ ان پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page