معاہدہ مدینہ
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ کسی قسم کا ظلم ہوگا اور نہ ان کے مقابلہ میں ان کے دشمن کی کوئی مدد کی جائے گی۔ کسی کافر اور مشرک کو یہ حق نہ ہوگا کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں قریش کے کسی شخص کو پناہ دے یا قریش اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہو۔ جنگ کے وقت یہود کو جان و مال سے مسلمانوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ مسلمانوں کے خلاف مدد کی اجازت نہ ہوگی۔ رسول اللہ کا کوئی دشمن اگر مدینہ پر حملہ کرے تو یہود پر رسول اللہ کی مدد لازم ہوگی۔ جو قبیلے اس عہد اور حلف میں شریک ہیں اگر ان میں سے کوئی قبیلہ اس حلف اور عہد سے علیحدگی اختیار کرنا چاہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر وہ علیحدگی اختیار کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ کسی فتنہ پرداز کی مدد یا اس کو ٹھکانا دینے کی اجازت نہ ہوگی اور جو شخص کسی نئی بات نکالنے والے شخص کی مدد کرے گا یا اس کو اپنے پاس ٹھکانا دے گا تو اس پر اللہ کی لعنت اور غضب ہے، قیامت تک اس کا کوئی عمل قبول نہ ہوگا۔ مسلمان اگر کسی سے صلح کرنا چاہیں گے تو یہود کو بھی اس صلح میں شریک ہونا ضروری ہوگا۔ جو کسی مسلمان کو قتل کرے اور شہادت موجود ہو تو اس کا قصاص لیا جائے گا الا یہ کہ مقتول کا ولی دیت پر راضی ہوجائے۔ جب بھی کسی معاملہ میں اختلاف پیش آئے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کیا جائے گا: وَإِنَّكُمْ مهما اختلفتم فيه من شئ فإن مرده إلى الله عز وجل وَإِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (السيرة النبوية لابن كثير، جلد 2، صفحہ 322)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن قبیلوں سے یہ معاہدہ کیا، ان میں یہود کے تین بڑے قبیلے شامل تھے۔ یہ قبیلے مدینہ میں یا مدینہ کے اطراف میں بسے ہوئے تھے۔ ان کے نام یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader