سیرتِ رسول
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں بنو قینقاع ، بنو نضیر ، بنو قریظہ ۔ مہاجرین کے دستے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچنے کے بعد جو کام کیے ، ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے چھوٹے چھوٹے دستے مکہ کے راستوں کی طرف بھیجنے شروع کیے ۔ ان دستوں میں صرف مہاجر مسلمان ہوا کرتے تھے ۔ ان دستوں کا ایک مقصد یہ تھا کہ مکہ کے لوگوں کے بارے میں خبریں معلوم کریں ۔ کیوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ ہجرت کے بعد وہ مدینہ پر چڑھائی کر سکتے ہیں ۔ دوسرا مقصد قریش کے قافلوں کو روکنا تھا اور ان کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ قَالَ الْوَاقِدِيُّ: وَكَانَ مَقْصُودُهُ أَنْ يَعْتَرِضَ لِعِيْرِ قُرَيْشٍ ( سيرة ابن كثير ، جلد 2 ، صفحہ 361 ) ۔ دوسرے لفظوں میں یہ اس کا مقصد قریش پر رعب ڈالنا اور اسلامی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا تاکہ وہ مدینہ کے خلاف جنگی اقدام سے باز رہیں ۔ ہجرت کے تقریباً سات مہینہ بعد آپ نے ایک دستہ روانہ کیا۔ اس کے سردار حضرت حمزہ تھے ۔ اس لیے اس کو سریہ حمزہ کہا جاتا ہے ۔ اس میں 30 مہاجرین شامل تھے ۔ یہ لوگ سیف البحر کی طرف بھیجے گئے تا کہ قریش کے ان 300 سواروں کا پیچھا کریں جو ابو جہل کی سرکردگی میں شامل سے مکہ واپس ہورہا تھا۔ سیف البحر ( ساحل بحر ) پر دونوں کا سامنا ہوا۔ تاہم کوئی لڑائی نہیں ہوئی ۔ حضرت حمزہ لڑے بغیر مدینہ واپس آگئے ۔ اس کے بعد شوال اھ میں 60 مہاجر مسلمانوں کا ایک دستہ رابغ کی طرف روانہ کیا گیا۔ اس کے امیر عبیدہ بن الحارث تھے ۔ رابغ کے مقام پر قریش کے 200 سواروں کی جمعیت سے مڈبھیڑ ہوئی ۔ تاہم لڑائی کی نوبت نہیں آئی ، مسلمان اپنی موجودگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد مدینہ واپس آگئے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader