مہاجرین کے دستے
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
ذوالقعدہ اھ میں 20 مہاجرین کی ایک جماعت خرّار کی طرف بھیجی گئی۔ اس کے امیر حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔ یہ لوگ رات کو چلتے اور دن کو چھپ جاتے۔ اس طرح چلتے ہوئے جب وہ خرّار کے مقام پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ قریش کا قافلہ آگے جا چکا ہے۔ خرّار سے وہ مدینہ واپس آ گئے۔ صفر 2 میں 60 مہاجرین کا ایک دستہ روانہ ہوگا۔ اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک تھے۔ آپ نے سعد بن عبادہ انصاری کو مدینہ میں اپنی جگہ مقرر کیا۔ اور چلتے ہوئے ابواء کے مقام پر پہنچ گئے۔ وہاں معلوم ہوا کہ قریش کا قافلہ یہاں سے گزر چکا ہے۔ آپ نے وہاں کے قبیلہ بنو ضمرہ کے سردار مخشی بن عمرو سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ لوگ نہ مسلمانوں سے جنگ کریں گے اور نہ مسلمانوں کے کسی دشمن کی مدد کریں گے ۔ 15 دن بعد آپ کسی لڑائی کے بغیر مدینہ واپس آ گئے۔ ربیع الثانی 2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ مکہ جا رہا ہے۔ آپ نے سائب بن عثمان بن مظعون کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر کیا اور خود 200 مسلمانوں کو لے کر قریش کے قافلہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش کے اس قافلہ میں تقریباً ڈھائی ہزار اونٹ تھے اور قریش کے ایک سو آدمی اس کے ساتھ تھے۔ انہوں نے اپنا سردار امیہ بن خلف کو بنایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے بواط کے مقام پر پہنچے۔ وہاں معلوم ہوا کہ قریش کا قافلہ آگے چلا گیا ہے ۔ چنانچہ کوئی مڑ بھیڑ نہیں ہوئی ۔ آپ امن و حفاظت کے ساتھ مدینہ واپس ہو گئے۔ جمادی الاولیٰ 2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 200 مہاجرین کی ایک جماعت بنائی۔ اور ان کو لے کر عشیرہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں سے قریش کا ایک قافلہ گزرنے والا تھا۔ آپ نے ابوسلمہ بن عبد الاسد کو مدینہ کا حاکم مقرر کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader